اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی بروقت اقدامات اور کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر مختلف سب سیکٹروں میں سمارٹ لاک ڈائون اور ایس او پیز فالو کرنے سے کورونا کیسز میں جمعہ کو صرف 52کیسسز رپورٹ ہوئے ہیں، تقریباً ایک ماہ قبل اسلام آباد میں روزانہ 771کورونا کے کیسز تھے …
مختلف سب سیکٹروں میں سمارٹ لاک ڈاون اور ایس او پیز فالو کرنے سے کورونا کے جمعہ کو صرف 52کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، تقریباً ایک ماہ قبل اسلام آباد میں روزانہ 771کورونا کے کیسسز تھے جبکہ اب وہ کیسز سو سے کم ہوگئے ہیں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کی اے پی پی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی بروقت اقدامات اور کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر مختلف سب سیکٹروں میں سمارٹ لاک ڈائون اور ایس او پیز فالو کرنے سے کورونا کیسز میں جمعہ کو صرف 52کیسسز رپورٹ ہوئے ہیں، تقریباً ایک ماہ قبل اسلام آباد میں روزانہ 771کورونا کے کیسز تھے جبکہ اب وہ کیسز سو سے کم ہوگئے ہیں، جو ایک ماہ کی انتظامیہ کی جو محنت ہے وہ رنگ لا رہی ہے اور تسلسل کے ساتھ ڈیٹا نیچے کی طرف جا رہا ہے اور لاک ڈاون اور ایس او پیز کی فالو کرنے کی وجہ سے کورونا جو تیزی سے بڑھ رہا تھا اب نیچے کی طرف جانا شروع ہوگیا ہے۔جمعہ کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ماہ قبل جب کورونا عروج پرتھا اور روزانہ کورونا کے کیسز کے مریضوں میں اضافہ ہورہاتھا جس کے بعد انتظامیہ نے جہاں سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے تھے اس علاقے کو بند کرکے وہاں پر سمارٹ لاک ڈاون لگا دیا اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی، ہم نے تقریبا 13 رہائشی سب سیکٹر اور چند کمرشل ایریاز کے مراکز سیل کئے، ان سیل شدہ سیکٹروں میں تفصیلی سروے، کنٹیکٹ،ٹریسنگ،گراؤنڈ سرویلنس،اور مشتبہ افراد کے انفرادی ٹیسٹ کے بعد سیل شدہ سب سیکٹروں کر مرحلہ وار کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈائون سے یہ فائدہ ہوا کہ ایک ماہ قبل اسلام آباد میں روزانہ جو پونے آٹھ سو کورونا کیسز آتے تھے انتظامیہ کی کوششوں سے اب وہ کیسز سو سے بھی کم ہوگئے ہیں اور آج جمعہ کو سب سے کم 52 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ جو علاقے ڈی سیل کئے گئے ہیں وہاں پردفعہ144کا نفاذ رہے گا اور اسسٹنٹ کمشنرز ان علاقوں میں ایس اوپیز پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کی بہتر حکمت عملی اور سمارٹ لاک ڈاون کی وجہ سیجمعہ کو صرف 52کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جمعہ کو اسلام آباد میں کورونا کیسز 52، 16 جولائی کو87کیسز، 15جولائی کو113کیسز،14 جولائی کو94کیسز، 13 جولائی کو 85کیسز، 12 جولائی کو96کیسز، 11 جولائی کو99کیسز،10 جولائی کو97کیسز9جولائی کو81کیسز، 8 جولائی کو 93 کیسز، 7 جولائی کو 63 کیسز 6 جولائی کو85کورونا کیسز، 5جولائی کو 117کورونا کیسز 4 جولائی کو 97 کیسز 3 جولائی کو 113 کیسز اور 2 جولائی کو170کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں، یکم جولائی کو137اور30جون کو132کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جوکہ ضلعی انتظامیہ کی بہتر حکمت عملی اور سمارٹ لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے، اسلام آبادمیں کورونا کیسز مسلسل کمی کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 29 جون 248کیسز، 28 جون 189، 26جون کو اسلام آبادمیں 271 کیسز جبکہ 27جون کو 225کیسز سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایس او پیزپر سختی سے عملدرآمد کروایا جارہا ہے، روزانہ کی بنیادپر ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے والے دکانداروں اور شہریوں کو ہزاروں روپے جرمانے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کے ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے افرادکو 2لاکھ لاکھ 73ہزار450 روپے کے جرمانے کئے گئے۔کورونا ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے والے128ہوٹلوں اور 609 دوکانوں اور 34ورکشاپس کو سیل کیا گیا. ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنیوالے 170 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 13مقدمات درج کئے گئے۔ کورونا وبا کے دوران گراں فروشی کرنے والوں کو تقریبا 14لاکھ 64ہزاراور100 روپے کے جرمانے بھی کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی وجہ سے ہی وفاقی دارالحکومت میں کرونا مریضوں کی تعدادمیں بتدریج کمی آرہی ہے۔








