وفاقی دارالحکومت میں 2025 کے دوران جرائم کی شرح میں نمایاں کمی، 23683 ملزمان گرفتار، دو ارب روپے سے زائد کی مالیت کا مال مسروقہ برآمد

اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سال 2025 کے دوران جرائم کی شرح میں تاریخی کمی دیکھی گئی، 2024 کے مقابلے میں مجموعی جرائم میں 37 فیصد اور سنگین جرائم میں 69 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو اسلام آباد پولیس کی طرف سے امن وامان کی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی سی ٹی پولیس کے ترجمان نے اتوار کو اے پی پی کو …

اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سال 2025 کے دوران جرائم کی شرح میں تاریخی کمی دیکھی گئی، 2024 کے مقابلے میں مجموعی جرائم میں 37 فیصد اور سنگین جرائم میں 69 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو اسلام آباد پولیس کی طرف سے امن وامان کی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

آئی سی ٹی پولیس کے ترجمان نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی کمان میں اسلام آباد پولیس نے مجرمانہ عناصر کے خلاف جامع آپریشنز کیے جس سے عوامی تحفظ میں نمایاں بہتری آئی۔موثر پولیسنگ کی وجہ سے ایک معروف بین الاقوامی جریدے نے اسلام آباد کو دنیا کے محفوظ شہروں میں شامل کیا جو دارالحکومت کی بہتر امن و امان کی صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔

2025 کے دوران اسلام آباد پولیس نے 20 سے زائد ہائی پروفائل کیسز 24 گھنٹوں سے کم وقت میں ٹریس اور حل کیے جو پیشہ ورانہ تفتیش اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اہلکار نے کہا کہ پولیس نے سال بھر میں 23,683 ملزموں کو گرفتار کیا اور دو ارب روپے سے زائد کی مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا۔ ڈکیتی، راہزنی، کار اور موٹر سائیکل چوری کے کیسز میں 578 گینگز کو توڑا گیا اور 1,308 گینگ ممبران کو گرفتار کیا گیا، جس سے 375 گاڑیاں اور 851 موٹر سائیکلز برآمد ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ قتل کے کیسز میں سخت کارروائی کے نتیجے میں 187 ملزم گرفتار ہوئے جبکہ سال بھر میں 4,000 سے زائد مطلوبین اور بار بار جرائم کرنے والوں کو بھی پکڑا گیا۔اسلام آباد پولیس نے زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی، 157 کیسز درج کیے اور 161 ملزم گرفتار کیے جبکہ ہوائی فائرنگ میں ملوث 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔”ہتھیاروں سے پاک اسلام آباد” مہم کے تحت پولیس نے غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے 2,308 ملزموں کو گرفتار کیا، 304 رائفلیں، 92 بندوقیں، 2,200 سے زائد پسٹل، 294 خنجر اور 37,491 گولیاں برآمد کیں۔

"نشہ اب نہیں” مہم کے تحت منشیات کے خلاف جنگ میں 1,801 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں تعلیمی اداروں کو منشیات سپلائی کرنے والے 29 ملزم شامل ہیں۔ پولیس نے 323 کلو گرام چرس، 550 کلو گرام ہیروئن، 161 کلو گرام آئس، 10 کلو گرام افیون، نشیلی گولیاں اور 8,427 شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔بہتر تفتیشی معیارات کی وجہ سے عدالتوں نے 2025 میں قتل کے کیسز میں 14 سزائے موت اور 14 عمر قید کی سزائیں سنائیں۔

اہلکار نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے 1,270 سے زائد کھلی کچہریاں منعقد کیں جن سے 100,000 سے زائد شہریوں کو فائدہ ہوا جبکہ منظم بھکاریوں کو روکنے کے لیے 3,973 پیشہ ور بھیک مانگنے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔قانون و ترتیب برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے 465 سے زائد سرچ آپریشنز کیے اور سال بھر میں 2,337 قانون و ترتیب کے پروگراموں کے دوران سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کیں۔

عوامی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے 2025 میں چار پولیس افسران شہید ہوئے اور 33 کو غازی کا اعزاز ملا۔سال کے دوران نئی اقدامات میں پولیس رسپانس یونٹ کا قیام، سٹی واچ سکواڈ، ایس آئی پی ایس پروٹوکول کے تحت ماڈل پولیس سٹیشنز، جدید چیکنگ سسٹمز، چیک پوائنٹس پر باڈی وارن کیمرے، ای پولیس پوسٹس اور متبادل تنازعات حل مراکز کی بحالی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور مسلسل اصلاحات اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کے ذریعے وفاقی دارالحکومت میں امن کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔