وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں پاکستان کے رنگ، ہنر اور ثقافت سب ایک جگہ کے موضوع سے لوک میلہ 2025 کا انعقاد

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ایک بار پھر پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی، دھنوں اور جذبے سے جگمگا اُٹھا ہے، لوک ورثہ ایک بار پھر تخلیقی اور ثقافتی جشن کے ایک دلکش مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ میلے کے وسیع میدانوں میں ہنر مند اپنے اسٹالوں کی آخری تیاریاں کر رہے ہیں، موسیقار اپنے سازوں کو سُر میں لا رہے ہیں اور روایتی کھانوں کی خوشبو …

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ایک بار پھر پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی، دھنوں اور جذبے سے جگمگا اُٹھا ہے، لوک ورثہ ایک بار پھر تخلیقی اور ثقافتی جشن کے ایک دلکش مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ میلے کے وسیع میدانوں میں ہنر مند اپنے اسٹالوں کی آخری تیاریاں کر رہے ہیں، موسیقار اپنے سازوں کو سُر میں لا رہے ہیں اور روایتی کھانوں کی خوشبو فضا میں پھیل چکی ہے جو لوک میلہ 2025 کی عظیم الشان افتتاحی تقریب کی نوید دے رہی ہے۔قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فاک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) کے زیرِ اہتمام یہ دس روزہ میلہ 7 تا 16 نومبر منعقد ہوگا جو دارالحکومت کو پاکستان کے لوک ورثے کے رنگوں سے مزین کر دے گا۔اس سال کا موضوع”پاکستان کے رنگ، ہنر اور ثقافت سب ایک جگہ” میلے کی روح کو اجاگر کرتا ہے جو ملک کی مختلف صوبائی و علاقائی روایات اور برادریوں کے حسین امتزاج کی عکاسی ہے۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندہ پویلینز اپنی علاقائی شناخت کے مطابق سجائے جا رہے ہیں۔ دستکار اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ کشیدہ کاری، آئینہ کاری، مٹی کے برتن اور زیورات کی نمائش کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔چنیوٹ کے لکڑی تراش، سندھ کے اجرک ساز اور بلوچستان کی خواتین کڑھائی کار اپنی مہارت کے جوہر دکھانے کے لیے تیار ہیں تاکہ آنے والے زائرین کو پاکستان کی روایتی ہنرمندی کا نظارہ پیش کیا جا سکے۔بین الاقوامی پویلین جس نے پچھلے سال خاص توجہ حاصل کی تھی اس بار دوگنی وسعت کے ساتھ قائم کیا جا رہا ہے، جس میں ایک درجن کے قریب غیرملکی ممالک اپنے روایتی فنون اور ثقافتی مظاہرے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ پیش کریں گے۔ دوست ممالک کے پرچم پہلے ہی اپنے مخصوص مقامات پر لہرا رہے ہیں جو میلے کی عالمی دلکشی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی نے کہا کہ لوک میلہ پاکستان کی اصل تخلیقی قوت اور نرم طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک میلہ نہیں بلکہ ہماری قومی شناخت کی دھڑکن ہے۔ جب ہمارے دستکار، موسیقار اور کہانی گو یہاں جمع ہوتے ہیں تو وہ دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کی ثقافت ہی اس کا سب سے بڑا فخر اور اتحاد کا سرچشمہ ہے۔میلے کی شامیں مختلف صوبوں کی ثقافتی موسیقی کے رنگوں سے جگمگا اُٹھیں گی۔افتتاحی دن، 7 نومبر کوشاندار افتتاحی تقریب اور قوالی نائٹ کا انعقاد ہوگاجو میلے کی روحانی شروعات کرے گی۔ 8 نومبر کو بلوچستان نائٹ میں اس خطے کے دلکش رقص اور دھنوں کا مظاہرہ ہوگاجبکہ 9 نومبر کو پنجاب نائٹ میں بھنگڑا اور لوک گیتوں کی گونج فضا میں بکھر جائے گی۔10 نومبر کو خصوصی ڈھول میلہ پاکستان کی روایتی دھنوں کو خراجِ تحسین پیش کرے گاجبکہ اگلی شامیں سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی ثقافتوں کے نام ہوں گی۔

میلہ 16 نومبر کو شاندار اختتامی تقریب اور میوزیکل نائٹ کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچے گا۔لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد وقاص سلیم نے کہا کہ 1981 میں آغاز کے بعد سے لوک میلہ پاکستان کی ثقافتی تسلسل اور مزاحمت کی علامت رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمارے ہنرمند اپنے فن کے رنگوں، گیتوں کی دھنوں اور روایتوں کی خوبصورتی کے ذریعے اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقام کو روایتی ڈیزائنوں، علاقائی جھنڈوں اور ہنرمندانہ سجاوٹ سے آراستہ کیا جا رہا ہے، جبکہ فوڈ کورٹ میں سجی، چپلی کباب، حلیم، بریانی اور جلیبی جیسے پاکستانی ذائقے پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔

سیکیورٹی، ہجوم کی نگرانی اور خاندانی تفریحی سہولیات کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ میلہ تمام زائرین کے لیے خوشگوار تجربہ بن سکے۔جیسے جیسے آخری تیاریاں مکمل ہو رہی ہیں چراغاں سے جگمگاتے پویلین، فنکاروں کی دلکش دستکاریوں کی سجاوٹ، اور پس منظر میں گونجتے ڈھول اسلام آباد میں جوش و خروش عروج پر ہے۔چند ہی دنوں میں، شہر رنگ،مسکراہٹوں اور موسیقی سے بھر جائے گاجب لوک ورثہ کا لوک میلہ 2025 ایک بار پھر پاکستان کے اتحاد، ہنرمندی اور لازوال ثقافتی ورثے کا زندہ مظہر بن جائے گا۔