اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی فوزیہ وقار نے خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب برائے ہراسانی رباب مہدی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں خواتین کے تحفظ، صنفی برابری اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر اہم گفتگو ہوئی۔ ترجمان کے مطابق یہ ملاقات پشاور میں خاتون محتسب خیبر پختونخوا کے دفتر میں ہوئی، جس کا مقصد وفاقی و صوبائی محتسب دفاتر کے درمیان رابطوں کو مزید …
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی فوزیہ وقار کا خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب برائے ہراسانی رباب مہدی کے دفتر کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی فوزیہ وقار نے خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب برائے ہراسانی رباب مہدی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں خواتین کے تحفظ، صنفی برابری اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر اہم گفتگو ہوئی۔ ترجمان کے مطابق یہ ملاقات پشاور میں خاتون محتسب خیبر پختونخوا کے دفتر میں ہوئی، جس کا مقصد وفاقی و صوبائی محتسب دفاتر کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم بنانا اور ہراسانی کے کیسز میں متاثرہ خواتین کو فوری، شفاف اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
دونوں محتسب خواتین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ’’ خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ ایکٹ 2010‘‘ کے تحت متاثرہ افراد کو بروقت انصاف دینے کے لیے اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن، ڈیٹا شیئرنگ اور ریفرل سسٹم کو مضبوط بنایا جائے گا، خصوصاً صوبے کے دور دراز اور نئے ضم شدہ علاقوں میں۔ فوزیہ وقار نے خیبر پختونخوا کے دفتر کی جانب سے آگاہی اور عوامی رابطہ مہمات کو سراہا اور کہا کہ وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط تعاون سے نہ صرف ادارہ جاتی احتساب بہتر ہوگا بلکہ خواتین کے حقوق سے متعلق پالیسی سازی میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اس بات کی ضمانت ہے کہ ہر عورت چاہے وہ کسی بھی علاقے میں ہو اس کی آواز سنی جائے، اسے تحفظ ملے اور وہ بااختیار ہو۔ ہم انصاف، عزت اور برابری کو ہر کام کی جگہ پر یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مل کر آگاہی مہمات، تربیتی پروگرامز اور درست ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔یہ دورہ پاکستان میں صنفی لحاظ سے حساس اور منصفانہ نظامِ انصاف کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو خواتین کے بااختیار ہونے اور کام کی جگہوں پر ان کے تحفظ کے قومی عزم کو مزید مضبوط بناتا ہے۔








