وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر انتظام خواندگی کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی جس میں تعلیم کے فروغ، شرح خواندگی میں اضافے اور بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل وفاقی نظامت تعلیمات جاوید اقبال مرزا نے کہا کہ خواندگی کے عالمی دن پر ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم …
وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر انتظام خواندگی کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر انتظام خواندگی کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی جس میں تعلیم کے فروغ، شرح خواندگی میں اضافے اور بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل وفاقی نظامت تعلیمات جاوید اقبال مرزا نے کہا کہ خواندگی کے عالمی دن پر ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں فائونڈیشن لٹریسی پروگرام شروع کیا گیا ہے جبکہ ان اداروں میں تقریباً اڑھائی لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ بچوں کا مستقبل بناتے ہیں، اس لیے اساتذہ کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت ضروری ہے۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں بروئے کار لایا جائے۔جاوید اقبال مرزا نے کہا کہ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل تعلیم کے متعدد پروگرام جاری ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں میں اعتماد پیدا کریں تاکہ وہ مختلف موضوعات کے بارے میں سوالات کریں اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکیں۔
ہر بچے کو اپنی صلاحیت اور ہنر پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور اس حوالے سے اساتذہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت آئوٹ آف سکول بچوں کے حوالے سے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر انتظام تعلیمی ادارے ملک میں شرح خواندگی میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں ایسا تعلیمی کلچر پیدا کرنا ہوگا جس میں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے۔
تقریب میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ افسران، اساتذہ اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خواندگی کے فروغ اور ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔








