وفاقی وزیرتوانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیرتوانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے، پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے جو ہم نے بحال کئے، حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل ذرائع سے 2025ءتک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارا ہدف ہے، 2030ءتک زیادہ تر …

اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیرتوانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے، پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے جو ہم نے بحال کئے، حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل ذرائع سے 2025ءتک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارا ہدف ہے، 2030ءتک زیادہ تر کلین اور گرین انرجی ہوگی، متبادل توانائی کے شعبہ میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، سستی بجلی پیدا ہونے سے صنعتی سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ حاصل ہو گا، نیلم جہلم سرچارج بھی جلد ختم ہو گا، 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کےا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ متبادل توانائی ایک انقلابی پالیسی ہے، پالیسی کے نفاذ سے مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی، مسلم لیگ (ن) کے دور میں 17 روپے یونٹ مہنگی بجلی بنائی گئی، ہمارا ہدف ہے کہ 2025ءتک 8 ہزار میگاواٹ بجلی متبادل ذرائع سے پیدا ہو گی جبکہ 2030ءتک 20 ہزار میگاواٹ بجلی کلین اور گرین انرجی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سستی بجلی پیدا ہونے سے صنعتی سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ حاصل ہو گا، متبادل توانائی کے شعبہ میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، سولر کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے سولر پینلز تیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، گزشتہ سال کے مقابلہ میں ریونیو میں 229 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، بجلی کی چوری روکنے اور کارکردگی بہتر بنانے سے 111 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستی اور صاف بجلی ہے، ماحول دوست توانائی ہے، اس میں پن بجلی اور ہائیڈل شامل نہیں ہے، 2030ءتک 65 فیصد تک توانائی ماحول دوست ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سستی توانائی سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، برآمدات بڑھیں گی، اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 700 ملین ڈالر 12 ونڈ پاور میں آ گئے ہیں، سولر پینلز اور ونڈ پاور کی ٹربائنز کی تیاری کے پلانٹ پاکستان میں لگیں گے، 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ فنانس بل میں مینوفیکچرنگ کےلئے مراعات دی ہیں، اس پالیسی میں مستقبل میں بجلی کی قیمت نیچے آئے گی، ماحول دوست بجلی مہیا ہو گی، کاروبار بڑھے گا، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، روزگار پیدا ہو گا اور برآمدات بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ متبادل توانائی کے منصوبے ختم کئے ہم نے ان کو بحال کیا، وزیراعظم کی قیادت میں حکومت سستی اور ماحول دوست بجلی پر ترجیح دے رہی ہے، متبادل توانائی کی پالیسی متفقہ مفادات کی کونسل میں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں اس حوالہ سے پہلے سے مکمل اتفاق رائے ہے، ہمارا مقصد لوگوں کے بجلی بلوں میں کمی ہے، 8800 میں سے 7200 سے زائد فیڈرز لوڈ شیڈنگ فری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت ملک میں مہنگی ایل این جی کے منصوبے لانا چاہتی تھی، متبادل توانائی کی یہ پالیسی مشترکہ مفادات کونسل میں لے کر جائیں گے، وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ توانائی کے شعبے میں انقلاب آنا چاہئے، کارکے پر حکومت نے پیسے نہیں دیئے اس پر خوشخبری دیں گے، پالیسی سے مستقبل میں بجلی کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔