وفاقی وزیر احد چیمہ کی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا خصوصی پلیٹ فارم تشکیل دینے اور قابل عمل پی پی پی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت

وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژں سینیٹر احد چیمہ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک کے قابل عمل قومی ڈھانچہ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے منظم مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری نظام وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت قابل سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری اور ان پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژں سینیٹر احد چیمہ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک کے قابل عمل قومی ڈھانچہ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے منظم مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری نظام وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت قابل سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری اور ان پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ ہدایات جمعرات کویہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ منصوبوں کی پائپ لائن کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ریلوے، شاہراہوں، توانائی، شہری بنیادی ڈھانچہ اور ہوائی اڈوں سمیت مختلف شعبوں کے ممکنہ پی پی پی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیرنے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں تو ہمیں انہیں سرمایہ کاری کے قابل اعتماد، آسان اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر منظم مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے حکام کو خصوصی سرمایہ کاری فنڈ یا اسی نوعیت کا کوئی موثر طریقہ کار وضع کرنے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی جس کے ذریعے اوورسیز پاکستانی ملک میں براہِ راست کاروبار قائم یا چلائے بغیر بڑے قومی انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ نظام میں سرمایہ کاروں کے لیے مناسب تحفظ اور واضح منافع کے ساتھ شفاف اور تجارتی لحاظ سے پرکشش مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ایسا پلیٹ فارم اوورسیز پاکستانیوں کی بچت کو ریلوے اور شاہراہوں سمیت قومی ترقی کے پیداواری منصوبوں میں بروئے کار لانے کے ساتھ انفراسٹرکچر کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی وسائل بھی فراہم کرسکتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک قابل عمل سرمایہ کاری فریم ورک کی شکل دینے کے لیے تفصیلی جائزہ لینے سے اتفاق کیا۔ مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے واضح کیا کہ حکومت کی پہلی ترجیح اس منصوبے کے لیے کثیرالجہتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ذریعے مالی وسائل کا حصول ہے۔ کراچی تا روہڑی سیکشن پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ پیش رفت کے تناظر میں انہوں نے ہدایت کی کہ ایم ایل ون کے باقی حصوں کے لیے پی پی پی ماڈل کو فی الحال بنیادی آپشن کے بجائے متبادل آپشن کے طور پر رکھا جائے جبکہ ترقیاتی شراکت داروں کے ذریعے مالی وسائل کے حصول کی کوششیں ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھی جائیں۔ وفاقی وزیر نے تاہم پی تھری اے کو ایم ایل ون کے لاہور تا راولپنڈی سیکشن کو ممکنہ پی پی پی ماڈل کے تحت ترقی دینے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے فزیبلٹی سٹڈی کرانے کی ہدایت کی، خصوصاً اس تناظر میں کہ منصوبے سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جائزے سے ضرورت پڑنے پر حکومت کے پاس ایک متبادل مالیاتی آپشن موجود ہوگا تاہم کثیرالجہتی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ پیش رفت بدستور اولین ترجیح رہے گی۔ اجلاس میں کھاریاں تا راولپنڈی موٹروے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم آفس سے منظوری حاصل ہوچکی ہے اور پی تھری اے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے ضروری تکنیکی اور ابتدائی تیاریوں پر تیزی سے کام آگے بڑھائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ تین ماہ کے اندر منصوبے کی تیاری کے حوالے سے واضح اور عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے توانائی کے شعبے میں سینیٹر احد چیمہ نے ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) اسمارٹ میٹرنگ منصوبے کو پی پی پی ماڈل کے تحت آگے بڑھانے کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ جدید سمارٹ میٹرنگ نظام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آپریشنل اور کمرشل کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ اقدام ڈسکوز کی مجوزہ نجکاری کے عمل میں بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت کی ہدایت کی۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے گندھارا ثقافت سے متعلق منصوبے اور کیپیٹل ہسپتال کی توسیع کو پی پی پی ماڈل کے تحت آگے بڑھانے کے ممکنہ منصوبوں میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے پی تھری اے اور متعلقہ حکام کو ان منصوبوں کی تجارتی اور تکنیکی افادیت کا جائزہ لے کر قابل عمل منصوبوں پر پیش رفت کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سی ڈی اے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے دیگر مجوزہ منصوبوں کے علاوہ 2027ء اور 2028ء میں مارکیٹ میں پیش کیے جانے والے ہوائی اڈوں سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر احد چیمہ نے ہدایت کی کہ متعلقہ وزارتوں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کی مشاورت سے مجموعی پائپ لائن کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو نجی شعبے سے قابل اعتماد سرمایہ کاری راغب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے پی پی پی منصوبوں کے حوالے سے زیادہ فعال اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قابل عمل منصوبوں کو محض تصور یا تجویز کی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے واضح ٹائم لائنز کے ساتھ قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پی پی پی منصوبوں کی پائپ لائن کا اعلیٰ سطح پر باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور مکمل تیاری کے حامل اور تجارتی لحاظ سے قابل عمل منصوبوں کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترجیحی پی پی پی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت باقاعدہ اجلاس ہوگا۔ سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ پی پی پی ماڈل کو قومی ترقی کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے ایک موثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، بالخصوص ایسے انفراسٹرکچر شعبوں میں جہاں جدید مالیاتی طریقہ کار کے ذریعے سرکاری وسائل کو نجی سرمایہ کاری سے تقویت دی جاسکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے پی تھری اے اور تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو باہمی رابطہ مزید موثر بنانے، تکنیکی اور مالیاتی جائزوں کا عمل تیز کرنے اور ملکی، بین الاقوامی اور اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری راغب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے قابل عمل پی پی پی منصوبوں کی ترجیحی پائپ لائن تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، سیکرٹری نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔