اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات وغیرہ کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے استشنیٰ قرار دینے کی تجویز ،کوویڈ 19 سے بچاﺅ کی دواکی قیمت 10,873سے کم کر کے 8244 روپے کرنے ، کنٹونمنٹ بورڈ کے نئے ممبران تعینات کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویزاور 7 مختلف کنٹونمنٹس کی ری …
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کی کابینہ اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات وغیرہ کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے استشنیٰ قرار دینے کی تجویز ،کوویڈ 19 سے بچاﺅ کی دواکی قیمت 10,873سے کم کر کے 8244 روپے کرنے ، کنٹونمنٹ بورڈ کے نئے ممبران تعینات کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویزاور 7 مختلف کنٹونمنٹس کی ری کلاسیفیکیشن کی منظوری دیدی ہے،کابینہ نے 94 ادویات کی مناسب قیمت مقرر کرنے کی منظوری بھی دی، یہ قیمتیں 30جون 2021تک منجمند رہیں گی، وفاقی کابینہ کو اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کے مجوزہ بل پر بریفنگ دی گئی، اس مجوزہ قانون کا مقصد جنسی جرائم کی موثر روک تھام ، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کو یقینی بنانا، تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کی عزت نفس کا تحفظ اور بحالی، کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنسی جرائم سے متعلقہ سزاﺅں کو سخت ترین بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزیر منصوبہ بندی اور وزیر توانائی کو ہدایت کی کہ پاور سیکٹر ریفارمز کے حوالے سے روڈ میپ کے متعلق عوام کو آگاہ کیا جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ اسلام آباد ماڈل جیل کے معاملے پر کابینہ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں اجلاس کی توجہ ماضی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے دی گئی ہدایات کی طرف دلائی گئی۔ کابینہ نے کہا کہ گرین ایریاز پر تعمیرات کے حوالے سے کابینہ کا موقف بڑا واضح ہے تاہم اس حوالے سے تمام حقائق معزز عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں اور ان کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔مشیر داخلہ کی جانب سے رٹ پٹیشن نمبر2407/2020میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات سے متعلق کابینہ کو بریف کیا گیا ۔کابینہ ڈویژن کی ورکنگ سے متعلق معاملات کی آٹومیشن کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی ۔ کابینہ نے کنٹونمنٹس ایکٹ 1924کے تحت سات مختلف کنٹونمنٹس کی ری کلاسیفیکیشن کی منظوری دی ۔کابینہ نے کنٹونمنٹ بورڈکے ممبران کی معیاد ختم ہونے کے بعد نئے ممبران تعینات کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویز کی منظوری دی۔ یہ نیا بورڈ ایک سال کے لئے ہوگا تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع کی جاسکے گی۔ یہ بورڈ لوکل گورنمنٹ الیکشنوں کے ذریعے صاف اور شفاف الیکشن کے عمل کو یقینی بنائے گا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن 2015کے تحت قائم شدہ بورڈ کی مدت دسمبر2019میں ختم ہو جائے گی ۔ کابینہ نے نیپرا اپیلیٹ ٹربیونل کے لئے جسٹس (ر) عبادالرحمن لودھی کی بطور چیئر مین اور ذیشان شاہدکی بطور ممبر فنانس تعیناتی ، جسٹس (ر) محمد موسیٰ لغاری کی بطور چیئرمین انوائرنمنٹل ٹربیونل اسلام آباد تعیناتی جبکہ کابینہ نے چیئرمین پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عہدے کی شرائط و ضوابط کی منظوری دی۔کابینہ نے اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات وغیرہ کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے استشنیٰ دینے کی تجویز کی منظوری دی۔کابینہ نے 100 mg Injection Remdesivirکی قیمت 10,873سے کم کر کے 8244 روپے کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے چند ادویات کیMaximum Retail Price مقرر کرنے کی منظوری دی تاہم کابینہ نے ہدایت کی کہ یہ قیمتیں 30جون 2021تک منجمند رہیں گی۔کابینہ نے ممبر (آئل) اوگرا اتھارٹی کی تعیناتی کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویز موخر کر دی۔ کابینہ نے اوگرا چیئرمین کے عہدے کے لئے از سر نو اشتہار جاری کرنے اور مناسب امیدوار کا انتخاب کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے وزارتِ خارجہ اور انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن کے درمیان تعاون کے معاہدے کی منظوری دی۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 09ستمبر2020 اور 16ستمبر 2020کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لئے گاڑیوں کی درآمد، ٹی سی پی کی جانب سے پندرہ لاکھ میٹرک ٹن گندم کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ کابینہ کو اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ پرازیکیوشن (Anti-Rape Investigation and Prosecution) کے مجوزہ بل پر بریفنگ دی گئی۔ اس مجوزہ قانون کی مقصد جنسی جرائم کی موثر روک تھام کو یقینی بنانا، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کو یقینی بنانا، تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کی عزت نفس کا تحفظ اور بحالی، کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنسی جرائم سے متعلقہ سزاﺅں کو سخت ترین بنانا ہے۔کابینہ کو پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 10ستمبر2020اور18ستمبر2020کے فیصلوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عالمی معاہدے ختم نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اس سے باہر جاسکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے توانائی کے شعبے کے حوالے سے عالمی معاہدوں کو دیکھنا شروع کیا ہے ، اس کا مقصد بجلی کی قیمت میں کمی لانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی پیدوار پر توجہ دی ، بجلی کی ڈسٹربیوشن اور ٹرانسمیشن پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے لائن لاسز اور دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی سفارشات کو نہ بڑھانے سے گردشی قرضے 2.1 کھرپ تک پہنچ گئے ہیں ،موجودہ حکومت نے توانائی سے متعلق تمام امور کو ریگولرائز کرنے کا عمل شروع کیا اس سے پہلے کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذہب بہت ہی حساس معاملہ ہے ، کم علم رکھنے والوں کو تبصرے سے گریز کرنا چاہیے ، بیرونی دشمن بھی ملک میں انارکی اور بے یقینی پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حال کرنا چاہتے ہیں تو ایسے میں سب کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اس حوالے سے وزیراعظم کی بھی اپنی ٹیم کے حوالے سے واضح ہدایات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی کے حوالے سے نہ کوئی پریشانی تھی اور نہ ہے ،ہمارا طرز عمل سب کے سامنے ہے ،ماضی میں کبھی اپوزیشن کو اس طرح کوریج نہیں دی گئی ، اصل بات یہ ہے کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر جب بلیک میلنگ میں ناکام ہوئی تو انہوں نے پھر اے پی سی بلائی جس میں تمام اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تین دفعہ وزیراعظم بننے والے اس مرتبہ کامیاب نہیں ہوئے تو الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہیں ، صحت کو بنیاد بنا کر بیرون ملک جانے والے قانون کا فراری شخص جب اپنے حق میں فیصلہ نہ ہو تو عدالتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور جب حق میں فیصلہ ہوتو سب اچھا ہوجاتا ہے ،اسی طرح بے نظیر کی حکومت گرانے سمیت حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے بھی نواز شریف کا اہم کردار رہا ، نواز شریف نے ہمیشہ ملک کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال اور اداروں کو مفلوج بنایا ۔








