اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف کوپارلیمان ،قوم ،سپریم کورٹ ،جے آئی ٹی اوراحتساب عدالت میں پاکستان لائے گئے پیسوں کو جائز ثابت نہ کرنے پر 7سال قید،25ملین ڈالر اور ڈیڑھ ارب جرمانہ کی سزا ہوئی ہے ،عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں بچے مفرور ہونے پر تکنیکی بنیادوں پر نواز شریف کوبری کیا …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف کوپارلیمان ،قوم ،سپریم کورٹ ،جے آئی ٹی اوراحتساب عدالت میں پاکستان لائے گئے پیسوں کو جائز ثابت نہ کرنے پر 7سال قید،25ملین ڈالر اور ڈیڑھ ارب جرمانہ کی سزا ہوئی ہے ،عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں بچے مفرور ہونے پر تکنیکی بنیادوں پر نواز شریف کوبری کیا ہے ، نواز شریف کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے قوم سے خطاب ،پارلمینٹ سے خطاب ، سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران صفائی کا موقع اور احتساب عدالت میں دفاع کا مکمل موقع دیا گیا لیکن وہ کسی بھی جگہ اپنے پیسوں کو جائزقرار نہیں دے سکتے ،نواز شریف اور آصف علی زرداری کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے ،دونوں سیاسی پارٹیاں ٹوٹ رہیں ہیں۔وہ پیر کو یہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ آج بہت اہم اور تاریخی دن ہے جس میں دو بڑے سیاستدان کرپشن کے کیسز میں ایکسپوز ہوچکے ہیں ،ٹھگ آف پاکستان کمپنی کے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے کیسز عوام کے سامنے آچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2016میں پانامہ سکینڈل سامنے آیا جس میں 11ملین کاغذات لیک ہوئے ، اسی سکینڈل میں پاکستان کے بڑے سیاستدانوں کی جعلی آف شور کمپنیاں اور جائیدادیں سامنے آئیں جن میں نواز شریف کا نام سر فہرست تھا ،ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں نواز شریف کی جائیداد موجود ہے ،احتساب عدالت نے طویل سماعت ،سپریم کورٹ کے فیصلے اور عمران خان کی سیاسی جدوجہد آخر کار رنگ لے آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ احتساب عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر نواز شریف کو بری کیا ہے عدالت نے قرار دیا ہے کہ جب تک ان کے دونوں بچے گرفتار نہیں ہوتے تب تک اکیلے نواز شریف کوسزا نہیں دی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کے بچے برطانوی شہری ہیں اس لئے ان پر پاکستانی قوانین لاگو نہیں ہوتے ،دراصل نواز شریف کمیشن کے پیسے باہر بھجواتے رہے اور ان سے انکے بچے جائیدادیں خریدتے رہے اور ان میں کچھ پیسے واپس نواز شریف کو بھجوائے جاتے رہے ۔انہوں نے بتایا کہ نوازشریف نے اسی کیس کی سماعت مکمل ہونے کے قریب عدالت سے استدعا کی کہ یہ کیس کسی دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے کیونکہ اس جج نے پہلے بھی فیصلہ دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس استدعا کو مسترد کیا لیکن ٹرائل کورٹ کے جج نے مزید سماعت سے انکار کیا جس کے بعد کیس دوسری عدالت میں منتقل ہوا ، 15ماہ اس کیس کی سماعت ہوئی اس دوران 123پیشیاں ہوئیں ۔العزیزیہ مل ریفرنس کے حوالے سے چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ 2001میں العزیزیہ مل قائم ہوئی ،2005میں یہ مل بند ہوگئی اور 18دن کے بعد ہل میٹل کے نام سے نئی مل قائم ہو گئی،مسلسل نقصان سے چلنے والی ہل میٹل مل کا خسارہ 2010میں اڑھائی لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا اور پھر اچانک جب پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنتی ہے تو یہ ہی مل سونے کے انڈے دینے والی مرغی بن گئی ،اسی مل سے 2010میں 2ملین ڈالر باہر اور 9لاکھ ڈالر نواز شریف کو بھجوائے گئے ،2015تک 9لاکھ ڈالر براہ راست واپڈا ٹائون بنیک اکائونٹ میں بھجوائے گئے ،9لاکھ ڈالر مریم نواز کے ڈرائیور ،خانسامنے اور گارڈ کے اکائونٹ میں بھجوائے گئے ،88کروڑ روپے اسی مل سے مریم نواز کو بھجوائے گئے جس سے مریم نواز نے مہنگی جائیدادیں خریدیں ،ایک ملین ڈالر 2010سے 2015تک حسین نواز کو منتقل ہوئے حالانکہ آغاز سے 2015تک یہ مل خسارے میں چل رہی تھی ،ہل میٹل کمپنی کاغذی کمپنی تھی اس میں حقیقی طور پر کاروبار تھا اور نہ ہی کارپوریٹ ڈھانچہ قائم تھا ،یہ ساری رقم پاکستان سے حاصل ہونے والے کمیشن کی تھی جو پہلے باہر بھجوائی جاتی اس میں سے جائیدادیں خریدنے کے بعد جو بچ جاتا اس رقم کو دوبارہ پاکستان بھجوا دیا جاتا رہا ۔انہوں نے کہا کہ 1992میں نواز شریف نے اقصتادی اصلاحات ایکٹ لائے جس کے مطابق بیرون ممالک سے آنے والی رقم کے بارے میں زریعہ نہیں پوچھا جاسکتا تھا ان معاملات کی تہہ تک جانے کے لئے قومی احتساب بیورو نے نیب ایکٹ میں سیکشن
9متعارف کرایا جس کے مطابق بیرون ممالک سے یا اپنے پاس موجود پیسوں کا ذریعہ بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے ،دراصل نیب کو سابقہ دور حکومت میں سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا گیا ،عمران خان جو کہ پہلے کبھی بھی ملک کے وزیراعظم ،صدر ،وزیر یا رکن اسمبلی نہیں رہے ان سے 40سالوں کا حساب مانگا گیا ،عمران خان نے1983کی رسیدیں بھی پیش کر کے اپنے کیس کا دفاع کیا اور سرخرو ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کرنے پر نیب نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ اپیل میں جائے گا کہ نہیں ، درحقیقت فلیگ شپ ریفرنس میں بھی پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے ،ایف زیڈ ای کمپنی میں نواز شریف چیئرمین تھے منی لانڈرنگ کے لئے یہ جعلی کمپنی بنائی گئی تھی ،2016میں یہ ہماری حکومت نہیں تھی اور نہ ہی چیئرمین نیب کی تقرری اور قوانین ہم نے بنائے ہیں اور نہ ہی نواز شریف کے جعلی اکائونٹس ہم نے بنائے اور نہ ہی ان میں پیسے ہم نے ڈالے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ثابت ہونے کے باوجود نواز شریف کا دفاع کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے ، پاکستان کے غیور عوام کی لوٹی ہوئی رقم ہر صورت واپس لائیں گے۔








