اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، پاکستان سعودی عرب تعلقات کی ایک تاریخ ہے ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ دورہ پاکستان سعودی عرب تعلقات کی اسی تاریخ کا تسلسل ہے، گزشتہ حکومتوں کے 10 سالوں میں پاکستان کے مشرق وسطیٰ سے …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، پاکستان سعودی عرب تعلقات کی ایک تاریخ ہے ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ دورہ پاکستان سعودی عرب تعلقات کی اسی تاریخ کا تسلسل ہے، گزشتہ حکومتوں کے 10 سالوں میں پاکستان کے مشرق وسطیٰ سے تعلقات کافی خراب رہے لیکن وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے وژن کے مطابق پاکستان کے مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پرخصوصی توجہ دی ہے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب پاکستان کو عالمی مسلم تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے ، وزیراعظم کے ویژن کے نتیجے میں آج پاکستان مشرق وسطیٰ میں بہت اہم سیاسی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی نسبت پاکستان سعودی عرب تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں حالیہ سرمایہ کاری گذشتہ 10سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے جس سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ سعودی عرب گوادر میں 8 ارب ڈالر سے ایشیا کی دوسری بڑی آئل ریفائنری بھی قائم کریگا جس سے پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت ہو گی ، پاکستانی زرعی شعبے میں بھی سعودی عرب کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری آ رہی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو مبارکباد کے لیے وزیراعظم عمران خان کو سب سے پہلے خادم الحرمین شریفین نے فون کیا تھا اور دوسرا فون شہزادہ محمد بن سلمان کا آیا تھا جس کے بعد ہمارے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ بڑے گہرے اور اچھے تعلقات استوار ہوئے، متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات بہت بہتر ہوتے گئے جس کا سہرا وزیراعظم عمران خان کی متحرک اور ولولہ انگیز قیادت کے سر جاتا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان ان تمام معاملات میں گہری دلچسپی لے رہے تھے جس کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا ،اسی کا نتیجہ ہے کہ آج سعودی عرب پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کرنے آ رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بڑے پیمانے پر اہم اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے اوریقین ہے کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات کا مستقبل روشن رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، بھارت دوسروں پر بے بنیاد الزمات لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں، گریبان میں جھانکے بغیر الزام تراشی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، پاکستان پر الزام تراشی وہ کر رہے ہیں جنہوں نے کبھی کشمیر میں قدم بھی نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اورکرتے رہیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک مستحکم ملک دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ایک دوسرے کے خیالات کا احترام ہو، مدینہ کی ریاست کا جو تصورہے اور جس کا وزیراعظم عمران خان بار بار ذکر بھی کرتے ہیں ، اسی تصور کے تحت پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہو، کمزور طبقے خود کو کمزور نہ سمجھیں اور انہیں ساتھ لیکر چلیں، ایسی ریاست کے قیام کے لیے ہی ہم کوششیں کر رہے ہیں۔








