وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا مینڈیٹ قومی دولت کے تحفظ کے علاوہ احتساب کے عمل کے ذریعے بدعنوان عناصر سے لوگوں کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے، لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے کرپٹ عناصر اور قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف احتساب کے عمل کی …

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا مینڈیٹ قومی دولت کے تحفظ کے علاوہ احتساب کے عمل کے ذریعے بدعنوان عناصر سے لوگوں کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے، لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے کرپٹ عناصر اور قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف احتساب کے عمل کی مکمل حمایت کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”جرگہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی مسلم تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے تاریخی تعلقات ہیں جو اسلامی یکجہتی اور اقتصادی تعاون کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پرتپاک استقبال کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور وزیراعظم عمران خان بذات خود ہوئی اڈے پر معزز مہمان کو خوش آمدید کہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی شہزادے کے جہاز کے پاکستانی حدود میں داخل ہونے پر پاک فضائیہ کے جہاز انہیں سلامی دیں گے جبکہ ائیرپورٹ آمد پر معزز مہمان کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب سپریم کوآرڈینیشن کونسل قائم ہو گی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے جوائنٹ ورکنگ گروپ ملکر کام کریں گے، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اس سپریم کوآرڈینیشن کونسل کی قیادت کریں گے اور سعودی عرب کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان اس کے سربراہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاﺅس کی جانب سے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا جس میں وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دونوں خطاب بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ ورکنگ گروپس کے درمیان باہمی تعاون کا ایک اہم اجلاس بھی ہو گا اور مختلف شعبوں میں دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کی ٹیم کے پاکستان آمد پر اربوں ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے اور گزشتہ حکومتوں کے ادوار کے مقابلے میں بڑی سرمایہ کاری کی جائے گی، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کی امید ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف چیرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جو ایک شریف انسان ہیں اور انہوں نے بڑی فراغ دلی کا مظاہرہ کیا کیونکہ انہوں نے بطور سپیکر سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی ریکوزیشن پر شہباز شریف کو چار چار گاڑیاں سکیورٹی کے لیے دی گئیں جو کسی صورت بھی درست نہیں کیونکہ شہباز شریف کے خلاف کیسز ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی قیادت کی اکثریت یا تو جیل میں ہے یا اپنے کیسز بھگت رہے ہیں جنہیں ہائی پروفائل استقبالیہ میں مدعو نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت ان اداروں میں اصلاحات لا رہی ہے۔