اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مہرالنساءمزاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے اعتراضات کے باوجود اس وقت کی (ن) لیگی حکومت نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کی حدود کو قبول کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمدآصف کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کے جواب میں ڈاکٹر …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مہرالنساءمزاری کاقومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مہرالنساءمزاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے اعتراضات کے باوجود اس وقت کی (ن) لیگی حکومت نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کی حدود کو قبول کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمدآصف کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کے جواب میں ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا کہ اس وقت کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کی حدود کو قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس وقت ایک اجلاس میں پی پی پی اور تحریک انصاف نے اسپر اعتراض بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق اگر کوئی ملک آئی سی جے کی حدود تسلیم نہیں کرتا تو عالمی عدالت انصاف کیس نہیں سن سکتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت کی حکومت نے اس کیس کے دفاع کے لئے ایک نچلے گریڈ کے آفیسر کو نامزد کیا تھا۔ہم نے اس پر بھی اس وقت اعتراض اٹھایا تھا۔وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ ان کی جماعت اور پی پی پی کا یہ مو¿قف تھا کہ (ن) لیگی حکومت کی جانب سے آئی سی جے کی حدود قبول کرناغلط تھا۔انہوں نے کہا کہ اس غلط فیصلے کی وجہ سے ہم عالمی عدالت انصاف میں کیس نہیں لڑ سکتے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے کہا کہ وہ اپنی یہ غلطی تسلیم کرے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کی پارلیمانی کمیٹی میں ہم نے واضح کیا تھا کہ آئی سی جے کی حدود قبول نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہے۔








