اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے علاقائی ڈیجیٹل تعاون کے فروغ اور آئی سی ٹی کی پائیدار ترقی کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتےہوئے کہا ہے کہ سپیکٹرم، ہم آہنگی، ڈیٹا گورننس اور سائبرسکیورٹی تعاون کے اہم نکات ہیں ،پاکستان کنیکٹڈ ، محفوظ اورپائیدار ڈیجیٹل جنوبی ایشیا کےلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوجنوبی ایشیائی ٹیلی …
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کا علاقائی ڈیجیٹل تعاون کے فروغ اور آئی سی ٹی کی پائیدار ترقی کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے علاقائی ڈیجیٹل تعاون کے فروغ اور آئی سی ٹی کی پائیدار ترقی کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتےہوئے کہا ہے کہ سپیکٹرم، ہم آہنگی، ڈیٹا گورننس اور سائبرسکیورٹی تعاون کے اہم نکات ہیں ،پاکستان کنیکٹڈ ، محفوظ اورپائیدار ڈیجیٹل جنوبی ایشیا کےلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوجنوبی ایشیائی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹرز کونسل (سیٹرک )کے 26 ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں شریک غیرملکی مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں ، اس کانفرنس سے خطے میں کنیکٹویٹی اور ڈیجیٹل رسائی میں اضافہ ہوگا۔ انہو ں نے کہا کہ عالمی سطح پرانفارمیشن ٹیکنالوجی معیشت میں اہم کردارادا کررہی ہے،جنوبی ایشیا ڈیجیٹل ترقی کے اہم موڑپر کھڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وژن ہے، ڈیجیٹل پاکستان کا بنیادی ستون مضبوط اور جامع کنیکٹویٹی کا فروغ ہے، ڈیجیٹل تعاو ن اور سرحد پارکنیکٹویٹی علاقائی ترقی کےلئے ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سماجی شعبے ، نظم ونسق اور معاشی ترقی ، مینوفیکچرنگ اور زراعت سمیت تمام شعبوں کی ترقی مستحکم ، قابل بھروسہ کنیکٹویٹی پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 200ملین موبائل اور150ملین براڈبینڈ صارفین ہیں ، ٹیلی کام سیکٹر نے قومی خزانے میں 1.5ٹریلین روپے سے زائد کا حصہ ڈالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ای گورننس کے تحت 98فیصد وفاقی وزارتیں، ای- آفس پرمنتقل ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی ڈیجیٹل تعاون اور مشترکہ ترقی کےلئے ہر سطح پر تعاون کےلئے تیار ہے،سپیکٹرم، ہم آہنگی، ڈیٹا گورننس اور سائبرسکیورٹی تعاون کے اہم نکات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کنیکٹ پاکستان 2030کے تحت ہر فرد کوتیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہمارا ہدف ہے، ہمیں خطے اور خطے سے باہرفرق کو ختم کرنا ہوگا، دیہی علاقوں میں کنیکٹویٹی اور انٹرنیٹ تک رسائی بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھرمیں انٹرنیٹ کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان کنیکٹڈ ، محفوظ اورپائیدار ڈیجیٹل جنوبی ایشیا کےلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر شخص کی مسلسل اور تیز رفتارانٹرنیٹ اور کنیکٹویٹی تک رسائی کےلئے کوشاں ہے، ہر شخص کی ڈیوائس تک رسائی کےلئے سمارٹ فون پالیسی تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں گوگل کروم بک اقدام کا گوگل کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے، رائٹ آف وے چارجز ختم کردیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کا آکشن جلد ہوگا، نادرا کے تعاون سے ڈیٹا ایکسچینج لیئر پر تیزی سے کام جاری ہے،اس اقدام سے شہریوں کو ذاتی دستاویزات تک رسائی میں آسانی ہوگی، ہمارا بنیاد ی مقصد اپنے شہریوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ، نظم ونسق میں شفافیت اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیش لیس اکانومی کے فروغ کےلئے کوشاں ہیں ، راست کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جارہی ہیں ۔
اے پی ٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مسانوری کونڈو نے تقریب کی میزبانی میں پی ٹی اے کی کوششوں کو سراہا اور منصفانہ ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کے لیے اجتماعی علاقائی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔چیئرمین پی ٹی اےمیجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے ریگولیٹری ہم آہنگی اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے قائدانہ کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈیجیٹل شمولیت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور آئی سی ٹی لچک کے لیے پی ٹی اے کی لگن کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایک مربوط اور اختراعی جنوبی ایشیا کے لیے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
افتتاحی سیشن میں پی ٹی اے کی قیادت اور آئی سی ٹی پالیسی اور ضابطے پر علاقائی مکالمے کو مضبوط بنانے کے عزم پر زور دیا، ڈیجیٹل تعاون کے کلیدی رکن کے طور پر پاکستان کے کردار کی توثیق کی اور ایک مربوط اور جامع جنوبی ایشیا کی جانب محرک قوت کے طور پر پاکستان کے کردار کی تصدیق کی ۔ اجلاس ایس جی اے پی ٹی ، ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹیز کے سربراہان، سینئر پالیسی سازوں اور سیٹرک کے رکن ممالک کے آئی سی ٹی ماہرین نے شرکت کی۔








