اسلام آباد ۔ 27 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد نرنیدر مودی خطہ کی خوشحالی اور استحکام کےلئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس اور مثبت اقدامات اٹھائیں گے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ تاریخ شاہد ہے کہ کشمیر کے دیرینہ حل …
وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور کا بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد نرنیدر مودی خطہ کی خوشحالی اور استحکام کےلئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس اور مثبت اقدامات اٹھائیں گے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ تاریخ شاہد ہے کہ کشمیر کے دیرینہ حل طلب مسئلہ کی وجہ سے جنوبی ایشیاءکا پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے اور بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود یہ خطہ ترقی و خوشحالی کے اعتبار سے باقی دُنیا سے پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے نہ صرف جنوبی ایشیاءکا خطہ ترقی و خوشحالی میں پیچھے رہ چکا ہے بلکہ اس دیرینہ مسئلہ کی وجہ سے خطہ پر ہر وقت خطرناک جنگی صورتحال منڈلاتی رہتی ہے جس کی ایک شکل چند ہفتے قبل بھارتی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آئی۔ انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی حقوق کے المیہ کے علاوہ ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بھی ہے، بھارت اور پاکستان کے جوہری طاقت ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک میں کسی قسم کی بھی غلط فہمی اور غلط اندازہ کسی وقت بھی عالمی سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس مسئلہ کے حل کےلئے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ٹھوس اور مثبت اقدامات اٹھاتا ہے تو یہ پورے جنوبی ایشیاءکےلئے ایک گیم چینجر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے دونوں ممالک اپنے وسائل عوام کی ترقی و خوشحالی کےلئے خرچ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً 35 سے 40 ارب ڈالر کی باہمی تجار ت کی گنجائش موجود ہے جس سے پورے خطہ میںترقی و خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان نے بھار ت کے ساتھ ہمیشہ بہتر اور دوستانہ تعلقات کے قیام کی ہمیشہ مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے برسر اقتدار آتے ہی اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر بھارت امن کےلئے ہماری جانب ایک قدم اٹھائے گا تو پاکستان امن کےلئے دو قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ پہنچا ہے کہ دونوں ممالک اس خطہ کے اربوں عوام کی ترقی و خوشحالی کےلئے جارحیت اور باہمی عدم اعتماد کی تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے نئے تعلقات کی بنیاد رکھیں جس کےلئے بھارت اپنے ماضی کے برعکس مثبت اور امن پسند اقدامات اٹھائے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کےلئے اپنی پرُامن کوششوں کو جاری رکھے گا تاکہ جنوبی ایشیاءمیں ایک پائیدار ترقی وخوشحالی کی بنیاد رکھی جا سکے۔








