اسلام آباد ۔ 24 جنوری(اے پی پی)وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کی طرف سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے بولی کے عمل میں شرکت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 2025ءتک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں پاکستان میں ڈنمارک …
وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان کی ڈنمارک کے سفیر رولف مائیکل کی زیر قیادت ڈنمارک کے قابل تجدید توانائی کے سرمایہ کاروں کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جنوری(اے پی پی)وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کی طرف سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے بولی کے عمل میں شرکت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 2025ءتک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر رولف مائیکل ہے پریرا ہالموب کی زیر قیادت ڈنمارک کے قابل تجدید توانائی کے شعبہ کے سرمایہ کاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر توانائی سے متعلق وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے چیئرمین ندیم بابر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے وفد کو بتایا کہ قابل تجدید توانائی کی پالیسی کی منظوری کے بعد قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے بولی کا عمل رواں سال کی تیسری یا چوتھی سہ ماہی میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قابل تجدید توانائی کی پالیسی پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد توانائی کے سستے منصوبوں سے انرجی مکس میں ان کا حصہ موجودہ 4 فیصد سے بڑھا کر 2025ءتک 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن سابق حکومت کے دور سے رکے ہوئے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی کابینہ سے منظوری لینے کی ایک تجویز پر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبہ کو کثیرطرفہ خریداروں اور کثیر طرفہ فروخت کنندگان کی مارکیٹ بنانا چاہتی ہے جس سے اس کے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ ندیم بابر نے وفد کو بتایا کہ ٹاسک فورس ہر سطح پر شفاف طریقہ سے 25 سال کے طویل دورانیہ کیلئے ملک کی توانائی کی ضروریات کے حوالہ سے منصوبہ تیار کر رہی ہے اور حکومت کی اس سلسلہ میں پالیسی توانائی کی دستیابی، سستی توانائی اور توانائی کے تحفظ کی بنیاد پر ہو گی۔ وفاقی وزیر بجلی نے کہا کہ صرف پانی، سورج کی روشنی، ہوا اور کوئلہ جیسے مقامی وسائل سستی بجلی کو یقینی بنا سکتے ہیں جبکہ دیگر ذرائع کا زیادہ تر انحصار بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ پر ہے۔ ڈنمارک کے سفیر نے حکومت کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈنمارک کے سرمایہ کار پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی کمپنیاں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے ہونے والی بولی کے عمل میں شرکت کریں گی۔ ڈنمارک کی ٹیکنالوجی ان شعبوں میں دنیا کی بہترین ٹیکنالوجیز میں شامل ہے۔








