وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب کی ڈنمارک کے سفیر سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان نے صوبوں کے اتفاق رائے سے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے، عالمی سطح پر کلین گرین انرجی کے فروغ میں ڈنمارک کا اہم کردار ہے، 2025ء تک قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیداوار کو موجودہ 4 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد پر لائیں گے۔ یہ …

اسلام آباد ۔ 22 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان نے صوبوں کے اتفاق رائے سے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے، عالمی سطح پر کلین گرین انرجی کے فروغ میں ڈنمارک کا اہم کردار ہے، 2025ء تک قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیداوار کو موجودہ 4 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد پر لائیں گے۔ یہ بات انہوں نے ڈنمارک کے سفیر روڈلف ہالموب سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعہ کو یہاں وفاقی وزیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی بھی موجود تھے۔ عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان بھی ملک میں قابل تجدید توانائی کے مواقع سے فائدہ اٹھائے گا، نئی قابل تجدید توانائی پالیسی جلد حتمی منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2030ء تک بجلی میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 30فیصد تک بڑھایا جائے گا، 2030ء تک متبادل سستے ذرائع سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے، سستی لاگت پر لگنے والے منصوبوں سے بجلی مرحلہ وار سستی ہوگی، ملک میں قابل تجدید توانائی منصوبوں سے روزگار کے کافی مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قابل تجدید پالیسی کے تحت بجلی کے منصوبے شفاف انداز میں مسابقتی بولی پر لگیں گے۔ وفاقی وزیر نے ڈنمارک کی کمپنیو ں کو پاکستان میں سولر پینلزاور ونڈ ٹربائنز کی تیاری میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ڈنمارک سفیر نے متبادل توانائی کے فروغ کیلئے حکومتی عزم کو سراہا۔ ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ڈنمارک قابل تجدید توانائی کے فروغ کیلئے پاکستانی ماہرین کی مدد کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی کمپنیاں پاکستان میں متبادل توانائی منصوبے لگانے کے لئے مسابقتی بولی میں حصہ لینے کیلئے تیار ہیں۔