اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے نئی شپنگ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2030ءتک شپنگ کے شعبہ میں جو بھی کمپنی جہاز رجسٹرڈ کرائے گی اس کو سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، معیشت کی بحالی موجودہ حکومت کو اولین ایجنڈا ہے، ایسی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے …
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے نئی شپنگ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2030ءتک شپنگ کے شعبہ میں جو بھی کمپنی جہاز رجسٹرڈ کرائے گی اس کو سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، معیشت کی بحالی موجودہ حکومت کو اولین ایجنڈا ہے، ایسی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت نجی شعبہ بھی شپنگ سیکٹر کی بہتری میں کردار ادا کرے، شپنگ سیکٹر کو پہلی مرتبہ سٹرٹیجک انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے، نئی پالیسی کے تحت فریٹ کی ادائیگی ڈالر کی بجائے روپے میں ہو گی، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایل این جی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرے گی، گذشتہ 10 سال سے پی این ایس سی منافع میں جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہمارے سامنے بہت سے مسائل تھے، ہمارے ایجنڈے میں معیشت کی بحالی اولین ترجیح تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 8 ماہ لگا کر شپنگ پالیسی بنائی ہے، اس معاملہ میں عبدالرزاق داﺅد کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے دن رات ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شپنگ کا شعبہ پاکستان میں نظر انداز کیا جاتا رہا، ایسی حکمت عملی بنائی ہے کہ نجی شعبہ بھی شپنگ سیکٹر کی بہتری کےلئے کردار ادا کرے گا۔








