وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کا مشترکہ ’’ٹرانس شپمنٹ ترغیبی پیکیج‘‘ کا اعلان

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ایک مشترکہ ’’ٹرانس شپمنٹ ترغیبی پیکیج‘‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ کے اخراجات کم کرنے اور علاقائی شپنگ ٹریفک کو راغب کرنے کے لئے بڑی مراعات دی گئی ہیں۔

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ایک مشترکہ ’’ٹرانس شپمنٹ ترغیبی پیکیج‘‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ کے اخراجات کم کرنے اور علاقائی شپنگ ٹریفک کو راغب کرنے کے لئے بڑی مراعات دی گئی ہیں۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بدھ کو کراچی پورٹ ٹرسٹ (کےپی-ٹی)، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی-کیو-اے) اور ان کے کنٹینر ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مشترکہ طور پر متعارف کرائے گئے اس پیکیج میں کنٹینرائزڈ، بلک اور بریک بلک ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لئے’’ویٹ چارجز‘‘ (بحری جہازوں سے متعلقہ اخراجات)، وارفج، سٹوریج فیس اور ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز میں کمی شامل ہے۔

اس فریم ورک کی تفصیلات بتاتے ہوئے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ ترغیبی نظام ٹرانس شپمنٹ کارگو (کنٹینرائزڈ اور بلک/بریک بلک کارگو) لے جانے والے جہازوں کے لئے’’پورٹ ویٹ چارجز‘‘ پر سلیب (درجہ بندی) کی بنیاد پر رعایت متعارف کراتا ہے۔ 5 سے 10 فیصد ٹرانس شپمنٹ کارگو والے جہازوں کو 20 فیصد رعایت ملے گی، 11 سے 25 فیصد کارگو پر یہ رعایت بڑھ کر 30 فیصد، 26 سے 50 فیصد پر 50 فیصد، 50 سے 90 فیصد کارگو والے جہازوں (کنٹینر جہازوں کے لئے کم از کم 2,000 ٹی ای یوز) کے لئے 70 فیصد، اور 90 سے 100 فیصد کارگو والے جہازوں (کنٹینر جہازوں کے لئے کم از کم 3,500 ٹی ای یوذ) کے لئے 80 فیصد رعایت دی جائے گی۔ مزید برآں کے پی ٹی وارفج کے اخراجات میں 20 فیصد سے 80 فیصد تک رعایت فراہم کرے گا (جس میں 70 فیصد رعایت کے لئے کنٹینر بردار جہازوں کے لئے کم از کم 2,000 ٹی ای یوز اور 80 فیصد رعایت کے لئے کم از کم 3,500 ٹی ای یوز کی شرط ہوگی)۔

اس کے علاوہ ٹرمینلز پر 14 دن اور ایجنٹ کی ذمہ داری کے تحت کے پی ٹی کے ٹی پی ایکس کارگو ایریا میں 30 دن تک مفت سٹوریج کی سہولت بھی دی جائے گی۔ پی کیو اےوارفج میں 100 فیصد رعایت کے ساتھ ساتھ ٹرمینلز پر 7 دن کی مفت سٹوریج کی سہولت دے گا جسے ایجنٹ کی ذمہ داری کے تحت کارگو کی نقل و حمل کے لئے 21 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ بندرگاہ کی جانب سے دی جانے والی ان مراعات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے چار بڑے کنٹینر ٹرمینلز نے بھی ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز کے لئے ’’ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز‘‘ (ٹی ایچ سی) میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔

کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے ای سی ٹی)، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز (ایس اے پی ٹی ایل)، کراچی پورٹ ٹرسٹ کا کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے کی ٹی ایل) اور پورٹ قاسم اتھارٹی کا قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کیو آئی سی ٹی) ٹرانس شپمنٹ کارگو مینیفسٹ (منصوبہ بند فہرست) کے 5 سے 10 فیصد حصے پر 10 فیصد، 11 سے 25 فیصد حصے پر 20 فیصد اور 25 فیصد سے زائد حصے پر 25 فیصد تک ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز میں رعایت پیش کریں گے۔

یہ مراعات 20 فٹ اور 40 فٹ، دونوں طرح کے کنٹینرز پر لاگو ہوں گی اور شپنگ لائنز کے لیے ہینڈلنگ کی مجموعی لاگت میں نمایاں کمی لائیں گی۔ وزیر نے کہا کہ یہ نیا فریم ورک ٹرانس شپمنٹ رعایت سے متعلق تمام سابقہ ​​نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کی جگہ ایک ایسے واحد، شفاف اور کارکردگی پر مبنی نظام کا نفاذ کرے گا جو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، دونوں پر لاگو ہوگا۔

کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد نے کہا کہ اس پیکج سے ٹرانس شپمنٹ کے اخراجات میں کمی، اضافی مین لائن شپنگ سروسز کی آمد، جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم (آمد و رفت کے دورانیے) میں بہتری اور پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی کارگو کے حجم میں اضافے کی توقع ہے۔