کراچی۔ 6 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم وفنی تربیت اور قوی تاریخ و ادبی ورثہ شفقت محمود نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تین قسم کا نظام تعلیم رائج ہے جس میں انگریزی، سرکاری اور مدرسہ نظام شامل ہیں، ہماری کوشش ہے کہ یکساں نصاب بنایا جائے ، ادبی تنظیموں کو مزید فعال کیا جائے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کریں، بارہویں …
وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کی بارہویں عالمی اردو کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
کراچی۔ 6 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم وفنی تربیت اور قوی تاریخ و ادبی ورثہ شفقت محمود نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تین قسم کا نظام تعلیم رائج ہے جس میں انگریزی، سرکاری اور مدرسہ نظام شامل ہیں، ہماری کوشش ہے کہ یکساں نصاب بنایا جائے ، ادبی تنظیموں کو مزید فعال کیا جائے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کریں، بارہویں عالمی اردو کانفرنس میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ علم و ادب یہاں زندہ ہے، فیض احمد فیض ہماری جنریشن کے شاعرتھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چار روزہ بارہویں عالمی اردو کانفرنس کی نشست ”فیض احمد فیض، شخصیت اور شاعری “ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نشست میں نعمان الحق کی مرتبہ ”کلیات فیض“ کا اجراءبھی ہوا۔ اس موقع پر افتخار عارف، سید مظہر جمیل، اشفاق حسین اور نعمان الحق نے گفتگو کی۔ سیشن کی صدارت زہر نگاہ نے جبکہ میزبان ارشد محمود تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں تین قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں، جن میں انگریزی، سرکاری اور مدرسہ نظام شامل ہیں، ہماری کوشش ہے کہ یکساں نصاب بنایا جائے، اس پر کام کرہے ہیں، یکساں نصاب سے ناانصافی بھی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سارے مسائل ورثے میں ملے تھے لیکن حکومت کی بہتر پالیسیوں کے نتیجے میں معیشت بہترہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پوری قوم ملکی مسائل کے حل کے لئے یکسو ہو اور مل کر آگے بڑہیں، پارلیمانی نظام میں حکومت اور اپوزشن دونوں کا کردار ہوتا ہے، ہم تمام مسائل افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ مجھے پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں سے محبت ہے، ادب اور شاعری کو فروغ دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا ہماری کوشش ہے کہ ادبی تنظمیوں کو مزید فعال کیا جائے اور بجٹ میں اضافہ کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے فیض احمد فضں کی محفلوں میں بھٹینے اور ان کی شاعری بھی سننے کا موقع ملا ہے، ان کے ساتھ جو وقت گزرا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہرجنریشن کا ایک شاعر ہوتا ہے، فیض احمد فیض ہماری جنریشن کے شاعر تھے، ان کی شاعری میں جوش و لولہ ہے۔ وفاقی وزیر اور سیشن کے دیگر شرکاءنے کلیات فیض کے اجراءپر نعمان الحق کو مبارک بھی باد پیش کی۔








