وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین سے روس کی زرعی کمپنی شیلکووو ایگروکِم کے وفد کی ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ وتحقیق رانا تنویر حسین سے روس کی زرعی کمپنی شیلکووو ایگروکِم کے وفد نے ملاقات کی اور پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تحقیق، بیج، زرعی ادویات اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تحقیق پر مبنی شراکت داری کا خواہاں ہے ، …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ وتحقیق رانا تنویر حسین سے روس کی زرعی کمپنی شیلکووو ایگروکِم کے وفد نے ملاقات کی اور پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تحقیق، بیج، زرعی ادویات اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تحقیق پر مبنی شراکت داری کا خواہاں ہے ، روسی زرعی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کو پاکستان کے مقامی موسمی اور زرعی حالات میں آزمانا ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر کلائمیٹ ریزیلینٹ زرعی ٹیکنالوجیز پاکستان کی اہم ضرورت ہیں ،پاکستان زیادہ پیداوار، خشک سالی اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی بیج کی اقسام کی کو بڑھانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ بیجوں کا تعاون صرف درآمد تک محدود نہیں ہونا چاہئے، مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو فروغ دینا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی تحقیقاتی ادارے پی اے آر سی اور این اے آر سی روسی زرعی ٹیکنالوجیز، بیجوں اور زرعی ادویات کی سائنسی جانچ کے لئے اہم پلیٹ فارم فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ گندم کی بوائی کے سیزن کے پیش نظر روسی بیجوں کے فوری آزمائشی تجربات کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اس موقع پر ہائبرڈ گندم سمیت جدید روسی سیڈ ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات بھی زیر غور آئے ۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ روس کے ساتھ مائیکرونیوٹرینٹس اور جدید فرٹیلائزر ٹیکنالوجی میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فاسفورس اور ڈی اے پی کھاد پر انحصار کم کرنے کے لئے متبادل غذائی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، پاکستان روسی کمپنیوں کو مقامی کاروباری شراکت داروں کے ساتھ بی ٹو بی روابط میں سہولت فراہم کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کی زرعی کمپنیوں کی سرمایہ کاری، مقامی شراکت داری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا خیرمقدم کرے گا ۔