وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا پاکستان کے کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے ری جنریٹو زراعت پر زور

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان کے کپاس کے شعبے کی بحالی اور طویل المدتی پائیداری کے لیے ری جنریٹو زراعت کے کلیدی کردار پر زور دیا ہے ۔ وہ پیر کو یہاں پاکستان رائونڈ ٹیبل برائے کپاس کے شعبے کو ری جنریٹو زراعت کے ذریعے مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان کے کپاس کے شعبے کی بحالی اور طویل المدتی پائیداری کے لیے ری جنریٹو زراعت کے کلیدی کردار پر زور دیا ہے ۔

وہ پیر کو یہاں پاکستان رائونڈ ٹیبل برائے کپاس کے شعبے کو ری جنریٹو زراعت کے ذریعے مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھےجس کا اہتمام پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم اے) کے تعاون سے کیا۔اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے اس بروقت اور بامقصد رائونڈ ٹیبل کے انعقاد پر تمام متعلقہ فریقین کی کاوشوں کو سراہا جس میں پالیسی سازوں،صنعتی رہنمائوں، ترقیاتی شراکت داران اور ماہرین نے زرعی اور ٹیکسٹائل شعبوں کے لیے پائیدار حل پر غور کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کپاس پاکستان کی برآمدی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور دیہی آبادی کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے تاہم موسمیاتی تبدیلی، زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی کی قلت اور عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے تقاضے سنگین چیلنجز ہیں جو ہمیں پائیدار اور ری جنریٹو زرعی طریقوں کی جانب منتقلی پر مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ری جنریٹو زراعت نہ صرف زمین کی صحت کی بحالی اور پیداوار میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے بلکہ عالمی پائیداری کے معیارات پر پورا اترنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان اس تبدیلی کے عمل میں کسانوں اور صنعت کی سہولت کے لیے زرعی اصلاحات، مالی معاونت، مراعات اور ہدفی سبسڈی کے ذریعے بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کپاس اور ٹیکسٹائل کی ویلیو چین میں پائیداری، شفافیت اور بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کے لیے اے پی ٹی ایم اے کے ساتھ قریبی اشتراک جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی منڈیاں تیزی سے ٹریس ایبلٹی، ذمہ دارانہ پیداوار اور ماحولیاتی پائیداری کے اصولوں کی جانب بڑھ رہی ہیں جو ممالک بروقت اپنی پیداواری نظام کو ان تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں، وہ بہتر مارکیٹ رسائی، سرمایہ کاری کے مواقع اور برآمدات میں اضافے کے قابل ہوتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت، صنعت، برانڈز اور کسان باہمی تعاون سے کام کریں تو ہم نہ صرف اپنی برآمدات کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ کسانوں کی آمدن میں بہتری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

اختتام پر وفاقی وزیر نے اے پی ٹی ایم اے،پی سی سی سی اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ رائونڈ ٹیبل میں ہونے والی گفتگو عملی اقدامات، مضبوط تعاون اور پاکستان کے کپاس کے شعبے کے لیے پائیدار نتائج کی بنیاد بنے گی۔