کوالالمپور۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے حالیہ ملائیشیا کے دورے کے دوران پاکستان ملائیشیا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کی میزبانی کی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی صف اول کی کمپنیوں کے سربراہان نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال سے ملاقات کی ۔وفاقی وزیر سے امیزون ویب سروس (AWS) کے وفد نے بشکریہ ملاقات کی۔ وفد نے پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے …
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ٹیکنالوجی، زراعت اور سرمایہ کاری کے شعبہ سے وابستہ ملائیشیا کی سرکردہ کمپنیوں کی ملاقات

مزید خبریں
کوالالمپور۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے حالیہ ملائیشیا کے دورے کے دوران پاکستان ملائیشیا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کی میزبانی کی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی صف اول کی کمپنیوں کے سربراہان نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال سے ملاقات کی ۔وفاقی وزیر سے امیزون ویب سروس (AWS) کے وفد نے بشکریہ ملاقات کی۔
وفد نے پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعاون کو مزید گہرا کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور پاکستان میں ڈیجیٹل اختراعات اور انٹرپرینیورشپ کو سپورٹ کرنے کے لیے امیزون ویب سروس کی قیادت کے ممکنہ دورہ پاکستان پر بھی روشنی ڈالی اس کے علاؤہ ملائیشیا سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن ( ایم ایس آئی اے ) کے وفد نے وفاقی وزیر کو ایسوسی ایشن کی کامیابیوں سے آگاہ کیا اور سیمی کنڈکٹر سافٹ ویئر ڈیزائن میں پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے ایم ایس آئی اے کی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ڈاکٹر چوا اور ٹین سری قمرالزمان کے بانی اور مشیر جی ڈبلیو جی ایک ملائیشین کمپنی جو زرعی تحقیق میں مہارت رکھتی ہے نے وفاقی وزیر کے ساتھ اپنی ملاقات میں بیج ٹیکنالوجی میں فی ہیکٹر پیداوار کو بہتر بنانے اور پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں تعاون کی پیشکش کی۔
وفاقی وزیر نے ان کی پیشکش کو سراہا اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔وفاقی وزیر نے ریجنل آپریشنز اینٹ گروپ کے سربراہ مسٹر ٹومی یاہ (پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساتھ علی بابا گروپ کی الحاق شدہ کمپنی ” ایزی پیسہ”) سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر ٹومی نے پاکستان میں فن ٹیک سیکٹر میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے شعبوں کی تلاش کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر کی ملائیشیا کی کمپنیوں کے ساتھ نتیجہ خیز اور بامعنی روابط سے نئے دوطرفہ منصوبوں، استعداد کار میں اضافے کے اقدامات اور علم کے تبادلے کے پروگراموں کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے جس سےپاکستان اور ملائیشیا دونوں کو فائدہ ہوگا۔








