وفاقی وزیر تجارت کی وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی سے ملاقات

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے خوراک کی سپلائی چین اور ماحولیاتی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں خوراک کی سپلائی چین مضبوط کریں گے، اقتصادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔

اسلام آباد۔4اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے خوراک کی سپلائی چین اور ماحولیاتی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں خوراک کی سپلائی چین مضبوط کریں گے، اقتصادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کے دوران کیا۔جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کی سپلائی چین مضبوط کریں گے، اقتصادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے توانائی کی بچت اور بہتر لاجسٹکس سروسز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سپلائی چین کی کارکردگی اور خوراک کی دستیابی پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی بہتری سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس حوالہ سے محدود اقدامات نہیں بلکہ مؤثر پالیسی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل سپلائی چین اور متبادل نقل و حمل کو فروغ دیں گے۔ جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت اور کلائمٹ اداروں کے درمیان ہم آہنگ فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے کلائمٹ اسمارٹ زراعت اور وسائل کے مؤثر استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بچت اور ماحولیاتی اقدامات صنعتی ترقی کو فروغ دیں گے، صنعتی شعبہ کی کارکردگی میں بہتری اور لاجسٹک مسائل حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی سپلائی چین میں ماحولیاتی لچک کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے۔ رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ عوامی اور نجی شعبہ کے تعاون سے ماحول دوست حل متعارف کرائے جائیں گے۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔