اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی شعبے کو پائیدار، موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق عالمی بینک کے وفد کی قیادت ورلڈ بینک …
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی شعبے کو پائیدار، موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق عالمی بینک کے وفد کی قیادت ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان ریجن عثمان ڈیون نے کی۔
اس موقع پر اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد نے بھی وفاقی وزیر سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے ورلڈ بینک کے وفد کو خوش آمدید کہا اور پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ادارے کی دیرینہ معاونت پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے حالیہ دورہ ورلڈ بینک ہیڈکوارٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط شراکت داریوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ گفتگو کے دوران ورلڈ بینک کے وفد نے قابلِ اعتماد اور کم لاگت توانائی نظام کی اہمیت پر زور دیا جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد نے پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات اجاگر کیے۔
وفاقی وزیر نے بجلی کے شعبے میں ہدفی اصلاحات کے ذریعے بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیداواری و ترسیلی منصوبہ بندی کو مربوط انداز میں تشکیل دیا گیا ہے اور انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) سے تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری بجلی گھروں کو نکال دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں صارفین پر پڑنے والے تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کے بوجھ سے بچائو ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقسیم کار کمپنیوں میں پائی جانے والی نااہلیوں میں کمی کے نتیجے میں 197 ارب روپے کی بہتری حاصل کی گئی ہے جبکہ گردشی قرضہ 780 ارب روپے تک کم کیا جا چکا ہے۔
درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلے پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ترسیلی نظام میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ خودکار میٹرنگ کے مکمل نفاذ کے لیے جامع جائزہ بھی جاری ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق بجلی کی طلب میں اضافے اور ٹیرف کے استحکام کے لیے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے ریلیف پیکجز متعارف کرائے گئے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قومی گرڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ مجموعی نظام کی کارکردگی بہتر ہو۔ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے خصوصی ٹیرف ریلیف دیا جا رہا ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور ایندھن پر انحصار میں کمی کا باعث بنیں گا۔ نیٹ میٹرنگ کے قواعد و ضوابط کو بھی زیادہ منصفانہ بنانے کے لیے بہتر کیا جا رہا ہے۔
مارکیٹ اور گورننس اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ مسابقت کے فروغ کے لیے ہول سیل بجلی مارکیٹ کو مرحلہ وار آزاد کیا جا رہا ہے۔ توانائی منصوبہ بندی کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے اور پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ نافذ العمل ہو چکا ہے۔ نیشنل گرڈ کمپنی، سسٹم آپریٹر اور پرائیویٹ پاور بورڈ سمیت اہم اداروں کی تنظیمِ نو کی جا رہی ہے تاکہ ان کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ وزارت توانائی کا تکنیکی یونٹ، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی)، اصلاحات کی نگرانی اور تجزیاتی معاونت فراہم کر رہا ہے جبکہ صارفین کی سہولت اور موثر نگرانی کے لیے جدید آئی ٹی نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صاف اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی ہی طویل المدتی توانائی سلامتی اور معاشی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اس موقع پر عثمان ڈیون اور ڈاکٹر رامی احمد نے توانائی شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت پاکستان اور وزارت توانائی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بروقت اور عملی اصلاحات کو بجلی کے شعبے میں کارکردگی، مالی استحکام اور خدمات کی فراہمی میں بہتری کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے اب تک ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے توانائی نظام کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ پائیدار اور قابل اعتماد توانائی کے فروغ کے لیے مسلسل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔








