اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ نیا پاکستان دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے، ملکی معیشت میں جلد مزید بہتری آئے گی، دیانتدار ٹیکس گزار پاکستان کے ستون ہیں۔ وہ بدھ کو صف اول کے ٹیکس دہندگان میں تعریفی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا صف اول کے ٹیکس دہندگان میں تعریفی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ نیا پاکستان دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے، ملکی معیشت میں جلد مزید بہتری آئے گی، دیانتدار ٹیکس گزار پاکستان کے ستون ہیں۔ وہ بدھ کو صف اول کے ٹیکس دہندگان میں تعریفی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بھی خطاب کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کسی بھی ملک میں امور حکومت چلانے کیلئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان میں ٹیکس فائلر کی تعداد 17 لاکھ ہے جن کے ملکی معیشت میں کردار پر شکرگزار ہیں، اس تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے قوانین اور ٹیکس فارم انگریزی زبان میں ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بھی ہیں جنہیں عام آدمی کیلئے آسان بنانا ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس چوروں کو پکڑنا مشکل نہیں، لائف سٹائل سے ان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، بڑے نادہندگان کو پکڑا جائے تو دیگر لوگ خود ٹیکس دینا شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس گزاروں کا حق ہے کہ ان کا پیسہ ملک کی فلاح کیلئے خرچ کیا جائے، پاکستان تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے اور یہ تبدیلی دنیا کو نظر آ رہی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت معاشی نمو کیلئے بہت اہم ہے، ملک میں ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ٹیکس نظام میں موجود پیچیدگیوں کو دور کرنے اور اسے ٹیکس گزاروں کیلئے آسان بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور انتظامی امور کو الگ کرنے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، ٹیکس چوروں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا اور جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح بڑھانے کیلئے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان کے صف اول کے ٹیکس دہندگان میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔








