وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر وں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

لاہور۔28 جنوری(اے پی پی )وفاقی و زیر خزانہ،ریونیو اینڈ اکنامک افئیرز اسد عمرنے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈز چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے فائنل کیا جائے گا۔آئی ایم ایف سے باقاعدہ بات چیت چل رہی ہے' مذاکرات میں آئی ایم ایف اپنے مطالبات سے نیچے آیا ہے'گیس کی قیمتوں کے بعد بجلی کے ٹیرف کا مسئلہ بھی جلد حل کریں گے'اوور سیز سرٹیفکیٹ سکیم کے اجراء کا …

لاہور۔28 جنوری(اے پی پی )وفاقی و زیر خزانہ،ریونیو اینڈ اکنامک افئیرز اسد عمرنے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈز چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے فائنل کیا جائے گا۔آئی ایم ایف سے باقاعدہ بات چیت چل رہی ہے’ مذاکرات میں آئی ایم ایف اپنے مطالبات سے نیچے آیا ہے’گیس کی قیمتوں کے بعد بجلی کے ٹیرف کا مسئلہ بھی جلد حل کریں گے’اوور سیز سرٹیفکیٹ سکیم کے اجراء کا اعلان وزیر اعظم خود کریں گے’افراط زر کی موجودہ شرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں سے انتہائی کم ہے’عوام پر مزید بوجھ ڈالے بغیر ریونیو ٹارگٹ پورا کریں گے’کاروباری برادری کے لیے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’ملک میں روزگار کے مواقع ‘صحت ‘تعلیم ‘ریونیو کا بہتر نظام ‘امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے’ آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کو یکجا کرکے نجی شعبہ کو مجموعی طور پر ایک ٹیکس دینے اور ایک ٹیکس کلکٹر کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔وہ پیر کے روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے’اس موقع پر وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر ‘صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال ‘چیئرمین ایف بی آرمحمد جہانزیب خان ‘ لاہور چیبمر کے صدر الماس حیدر ‘چیف کلیکٹر کسٹم سمیت کثیر تعداد میں تاجر برادری بھی موجود تھی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے باقاعدہ تفصیلی بات چیت ہو رہی ہے بات چیت سے آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان فرق کم ہوا ہے۔مذاکرات میں آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے اور وہ اپنے مطالبات سے نیچے آیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام جلد از جلد فائنل ہو جائے۔ این ایف سی ایوارڈ چاروں صوبوں میں اتفاق رائے سے طے کیا جائے گا پہلے اجلاس میں اس کا خاکہ پیش کریں گے بعد میں وفاق اور صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے کہ کونسے مسائل ہیں جن کو مل جل کر حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو معاشی طور پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا جس کیلئے حکومت نے بڑے فیصلے کئے گیس کی قیمتوں کا مسئلہ حل کیا اور اب بجلی کے ٹیرف کا مسئلہ بھی جلد حل کریں گے جو بھی فیصلے کئے ہیں کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے افراط زر کی شرح پی پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں سے انتہائی کم یعنی 0.4 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز سرٹیفکیٹ مخصوص رقم اور مدت کے نہیں ہوں گے اس سکیم کے اجراء کا اعلان31 جنوری کو وزیراعظم خود کریں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ کاروباری برادری کیلئے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ‘صحت ‘تعلیم ‘ریونیو کا بہتر نظام ‘امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹورازم پالیسی پر بے تحاشا کام ہو رہا ہے ملک میں ٹورازم کے شعبہ میں بڑا پوٹینشل ہے ملائشیا اور ترکی ٹورازم سے اربوں ڈالرز کما رہے ہیں ملک میں ٹورازم کے شعبہ میں بڑا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ سادگی اختیار کر کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میرے دل کے بہت قریب ہے اس کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جلد آئی ٹی انڈسٹری کیلئے پیکیج کا اعلان کریں گے انہوں نے کہا کہ ٹریڈ پالیسی پر وزارت تجارت کام کر رہی ہے اداروں کی پرائیویٹائزیشن پر کام نہیں ہو رہا ہمیں اس امر کا تعین کرنا ہے کہ کونسے اداروں کی پرائیویٹائزیشن ہونی چاہئے یا اس کو درست سمت پر کیسے لایا جا سکتا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کے عمل میں 11 افراد کا ایک بورڈ بنایا جائے گا جس کے ممبران 8 پرائیویٹ سیکٹر سے اور تین حکومت سے ہوں گے انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں اور پیداواری لاگت میں کمی لانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں وفاقی وزیر نے کہا کہ 5 فروری کو ہونیوالے اجلاس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ سے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے تفصیلات طلب کی ہیں موجودہ انڈسٹریل زونزجن کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے انڈسٹریل زون کو چلانے کی ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر کے پاس ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ اگلے بجٹ میں ٹیکس کے نظام میں بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس دہندہ ایک ہی ریٹرن فائل کرے انہوں نے کہا کہ قومی بچت کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی 10.4 فیصد سیونگ سے ہم مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکتے ملکی معیشت کو 7 فیصد سالانہ سے مستقل بنیادوں پر ترقی کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کو مل کر انڈسٹری کے ساتھ بیٹھنا چاہئے صوبے اور وفاق جب تک ایک پیج پر نہیں ہونگے کامیابی نہیں ملے گی انہوں نے کہا کہ حالیہ فنانس بل میں کاروباری برادری کیلئے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ ایگزیمپشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کو مشکل درپیش ہے ایس او پیز بنا رہے ہیں ایگزیمپشن سرٹیفکیٹ کی مدت دو ماہ سے چھ ماہ تک کر رہے ہیں ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے حوالے سے لسٹ جلد سرکولیٹ کر دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریفارم پالیسی کے حوالے سے کمیٹی بن گئی ہے بزنس کمیونٹی پر چھاپے مارنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے اس کیلئے بھی ایس او پیز بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل سیکٹر کو بھی جلد بلا کر ان کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کریں گے لوکل اور امپورٹڈ ایل پی جی کے ٹیکس کو بھی حل کریں گے اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر محمدجہانزیب خان نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان کیلئے عزت کا باعث بنے اس مقصد کیلئے مربوط پروگرام بنایا گیا ہے جس سے ٹیکس دینے والوں کی عزت اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ایسا ٹیکس کا نظام لائیں جس میں آسانیاں ہوں انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اولین ترجیح ہے اگلے بجٹ میں ٹیکس کا عمل اور قانون میں بہتری لائی جائے گی ملک کو جتنے ریونیو کی ضرورت ہے وہ ملکی جی ڈی پی کے مطابق کم ہے انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے جو ٹیکس دہندہ نہیں ہیں جن کا ملکی اور غیر ملکی ڈیٹا موجود ہے ان تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کو بہتر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں پیچیدگیاں ہیں ان کو دور کر نے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں آڈٹ کا نظام بہتر اور اسیسمنٹ ٹھیک ہونی چاہئے۔ قبل ازیں کاروباری ایسوسی ایشنز کے سربراہان نے وفاقی وزیر خزانہ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور تجاویزپیش کیں۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر سمیت دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔