وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس، مختلف منصوبوں اور اداروں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس، مختلف منصوبوں اور اداروں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزارت خزانہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (ایس اے پی ) کے لئے 7026.3 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی، اس رقم سے ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے، لاگت میں اضافے سے بچاؤ اور پروگرام کے اہداف کے بروقت حصول میں مدد ملے گی۔ کمیٹی نے وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے نظر ثانی شدہ آرمڈ فورسز ڈویلپمنٹ پروگرام (آر اے ایف ڈی پی 2030) کے تحت 10.15 بلین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔

ای سی سی نے وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے پیش کی گئی سات سمریوں کی منظوری دی جن میں اسلام آباد امن مذاکرات کے دوران سکیورٹی انتظامات کے لیے 692.9 ملین روپے، امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں خودکش دھماکے سے متعلق معاوضہ جاتی اخراجات کے لیے 241 ملین روپے، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کی آپریشنل ضروریات کے لیے 528 ملین ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لفاسٹ پٹرول بوٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی خریداری کے لیے 800 ملین روپے، سیف سٹی اسلام آباد توسیعی منصوبے کے لیے 1883.7 ملین، نیکٹا کی آپریشنل ضروریات کے لیے 150 ملین اور ریکوڈک منصوبے سے متعلق سکیورٹی چارجز کے لیے 413.9 ملین روپے شامل ہیں۔ کمیٹی نے اسلام آباد امن مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کی کاوشوں کی تعریف کی۔

اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کی سمری پر غور کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) کو جون 2026 کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 733 ملین جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں ٹیلی کام سائٹس اور ٹیلیفون ٹاورز کی تنصیب کے لیے اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے حق میں 183.5 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں میں موبائل اور ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ای سی سی نے وزارت پارلیمانی امور کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے مالی سال 2025-26 کے دوران پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نظرثانی کے نتیجے میں ملازمین سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے 119.9 ملین کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔

ای سی سی نے وزارت ہاؤسنگ و ورکس کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے کرنٹ اکاؤنٹ میں ترقیاتی فنڈز منتقل کرنے کی اجازت دی، جن میں کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پیکجز کے لیے 8758.9 ملین روپے اور خیبرپختونخوا کے لیے ایس اے پی کے تحت 2840 ملین روپے شامل ہیں۔ کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی تین سمریوں پر غور کرتے ہوئے پی ایس ڈی پی منصوبے کے تحت پاکستان منٹ کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن (فیز-II-A) کے لیے 1.3 بلین روپے اور حکومت گلگت بلتستان کے موجودہ اخراجات اور ترجیحی اقدامات کے لیے 4.377 بلین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی۔ ای سی سی نے بجٹ اعزازیہ پالیسی کی بھی منظوری دی اور وفاقی بجٹ سازی میں کردار کے اعتراف میں وزارت تجارت، وزارت قانون و انصاف اور آفس آف اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو اہل اداروں میں شامل کرنے کی اجازت دی۔

اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے آئی پی او پاکستان کے بجٹ تخمینوں کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت 914.7 ملین کے اخراجات اور 918 ملین روپے کی متوقع آمدن کا تخمینہ شامل ہے۔ ای سی سی نے وزارت بحری امور کی جانب سے اینگرو ووپک ٹرمینل لمیٹڈ کی آپریشنل سرگرمیوں کے تسلسل سے متعلق سمری کی بھی منظوری دی۔ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے 100 بلین روپے کی حد تک سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولتوں کے تسلسل اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت سائنرجیکو پی کے لمیٹڈ کے ساتھ ڈیڈ آف سیٹلمنٹ سے متعلق نظرثانی شدہ فریم ورک کی منظوری دی۔

نظرثانی شدہ فریم ورک کا مقصد لیٹ پیمنٹ سرچارج کے مسئلے کا حل اور ریفائنری اپ گریڈیشن و سرمایہ کاری کی معاونت ہے۔ باقاعدہ ایجنڈے کے علاوہ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے رہائشی رہائش گاہوں کے کرایوں کی ادائیگی کے لیے 29.9 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے 30 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔