اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں زری و مالیاتی پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلی معیشت کے اہداف کے حصول میں مانیٹری و فسکل پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر رابطوں کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے موثر پالیسی سازی کیلئے اقتصادی ڈیٹا کی بروقت …
وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا زری و مالیاتی پالیسی رابطہ بورڈ کےاجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں زری و مالیاتی پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلی معیشت کے اہداف کے حصول میں مانیٹری و فسکل پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر رابطوں کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے موثر پالیسی سازی کیلئے اقتصادی ڈیٹا کی بروقت فراہمی کی ہدایت بھی کی ہے۔ زری و مالیاتی پالیسی رابطہ بورڈ کا اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقدہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، گورنر سٹیٹ بینک، ڈاکٹر اسد الزمان اوروزارت خزانہ کے سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ سیکرٹری خزانہ نویدکامران بلوچ نے ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال پر اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی بروقت پالیسیوں اوراقدامات کے نتیجے میں کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کے پاکستان کی معیشت پر دنیا کی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں معاشی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی۔ جاری مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں پاکستان کی معیشت کافی حد تک بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے اجلاس کو بتایاکہ سہولیات پر مبنی زری پالیسی کی وجہ سے اقتصادی بحالی میں مدد مل رہی ہے، ملک کے بیرونی کھاتوں میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے، اسی طرح تجارتی توازن میں بھی بہتری آ رہی ہے جو اچھی پیشرفت ہے۔ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ جاری مالی سال کی پہلی دو سہ ماہیوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ سہولیات پر مبنی زری و مالیاتی پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار اور تعمیرات کے شعبے نے اچھی پیشرفت کی ہے اور دونوں شعبوں میں بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے اجلاس کو بتایا کہ جولائی سے لیکر نومبر تک کی مدت میں تجارتی خسارے میں بہتری آئی ہے، سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدات کی شرح بھی کم ہے۔ انہوں نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے مطابق مالیاتی پالیسی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ملکی صنعتوں بالخصوص برآمدات سے متعلق صنعتوں کو اپنے آپریشن تیز کرنے میں سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ افراط زر کے دبائو پرمسلسل نظر رکھناہوگی تاکہ مسابقتی ماحول متاثر نہ ہو۔ ڈاکٹر اسد الزمان نے زری و مالیاتی پالیسیوں پر مبنی اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ مشکل وقت میں یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ سازی کے عمل میں ڈیٹا کے جامع تجزیہ کی اہمیت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں مانیٹری و فسکل پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کلی معیشت کے اہداف کے حصول میں مانیٹری و فسکل پالیسیز کوآرڈینشن بورڈ کے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے موثر پالیسی سازی کیلئے اقتصادی ڈیٹا کی بروقت فراہمی کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو زری و مالیاتی پالیسیوں کے اقتصادی بڑھوتری، روزگار، سرمایہ کاری اور معیشت کے بیرونی محاذوں پر پڑنے والے اثرات کا بہتر اور موثر طریقے سے جائزہ لینا چاہیے۔








