وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے، یہ ایک قابل تشویش بات ہے کہ ملک کے دو پیشہ وارانہ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں تصادم ہوا اور اس میں بیمار و لاچار افراد متاثر ہوئے، ان کا جانی اور مالی نقصان ہوا، جن کو جنگ کی حالت …

اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے، یہ ایک قابل تشویش بات ہے کہ ملک کے دو پیشہ وارانہ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں تصادم ہوا اور اس میں بیمار و لاچار افراد متاثر ہوئے، ان کا جانی اور مالی نقصان ہوا، جن کو جنگ کی حالت میں بھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ میرا ذاتی مؤقف ہے کہ جو بھی اس کے ذمہ داران ہیں انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا پرامن احتجاج اور اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا جمہوریت کا حسن ہے لیکن اس دوران کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اور اشتعال انگیزی شدت پسندی کی علامت ہے، ہمارے معاشرے میں برداشت کی کمی کے باعث بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے امید ظاہر کی کہ پنجاب حکومت اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں کامیاب ہو گی۔ انہوں کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالہ سے 2 مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں سے ایک پولیس موبائل جلانے پر پولیس کی مدعیت جبکہ دوسرا میڈیکل سٹاف کو مدعی بنا کر درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داران کی شناخت اور معاملہ کی اصل وجوہات کا پتہ لگانا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی رفتار گزشتہ حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے آہستہ ضرور ہو سکتی ہے لیکن ہم درست سمت میں کام کر رہے ہیں اور اس بات کا ثبوت معاشی سطح پر ہونے والی مثبت تبدیلی ہے، ہم گورننس سے لے کر تمام معاملات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کی دیر ہے اور میں اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ مہنگائی میں کمی سے صرف یہ پانچ سال ہی نہیں بلکہ اگلے پانچ سالوں کیلئے بھی عوام ہمیں ہی منتخب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہائوس تبدیلی کا کوئی جواز نہیں بنتا، اس قسم کی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف سے ان کو مائنس کر دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری پر ابھی فرد جرم عائد نہیں ہوئی، ابھی تحقیقاتی عمل جاری ہے۔ انہوں نے صحت کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت حاصل کی ہے اور اگر نیب اور زرداری کے درمیان کسی بھی قسم کی بارگین ہوئی ہو تو حکومت کا اس سے کو ئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے لئے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ چار ہفتے 16 دسمبر کو پورے ہو رہے ہیں اور مزید توسیع کے لئے عدالت کے احکامات کے مطابق پنجاب حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نوازکا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، لندن میں یہ خلاف قانون ہے کہ آپ کسی اور کی طبی تفصیلات لیں ، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے باقاعدہ طور پر تحریری حقائق برطانوی حکومت کو فراہم کر دیئے ہیں تاکہ جانچ پڑتال کیلئے جانے والے حکام کو باآسانی رسائی مل سکے۔ پرویز مشرف کیس کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف صرف یہ تھا کہ قانون کی باقاعدہ پیروی کی جائے چونکہ یہ انتہائی سنگین نویت کا کیس ہے لہٰذا پرویز مشرف کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیا جائے، باقی اس معاملہ میں حتمی فیصلہ عدالت کا ہی ہو گا، کیس کیلئے قانون کیلئے تمام شرائط و ضوابط پورے ہونے چاہئیں۔

مزید خبریں