چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی آئی پی یو اسمبلی کے موقع پر پارلیمانی سفارتکاری کیلئے ملاقاتیں

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی کے موقع پر عالمی پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے ذریعے پاکستان کی پارلیمانی سفارتکاری کو آگے بڑھایا، ان روابط کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانا، اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا اور تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے فروغ کے …

اروشا، تنزانیہ۔9اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی کے موقع پر عالمی پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے ذریعے پاکستان کی پارلیمانی سفارتکاری کو آگے بڑھایا، ان روابط کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانا، اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا اور تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے فروغ کے لئے مکالمے اور تعاون کو وسعت دینا تھا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے آسٹریلیا اور تنزانیہ کی پارلیمانوں کے سپیکرز، ایرانی پارلیمانی وفد کے ارکان اور کمبوڈیا، ازبکستان، یوراگوئے، بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے دوران دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون اور علاقائی و عالمی اہمیت کے امور پر گفتگو کی۔چیئرمین سینیٹ نے روایتی سفارتکاری کے ساتھ پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، مکالمے اور تعمیری بین الاقوامی روابط کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے تنازعات کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی و عالمی چیلنجز کے پُرامن حل کے لئے مسلسل سفارتی کوششوں، باہمی احترام اور کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے امن کے قیام کے لئے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے اصولوں کے مطابق دیرینہ تنازعات کے پُرامن حل کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پُرامن حل کو بھی ضروری قرار دیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔مختلف ممالک کے پارلیمانی نمائندوں سے گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی پارلیمانی ترجیحات اور مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کے درمیان مسلسل رابطے اور منتخب نمائندوں کے مابین بامعنی مکالمہ اختلافات کم کرنے، باہمی اعتماد بڑھانے اور پیچیدہ عالمی معاملات پر مشترکہ فہم پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امن کے فروغ، جمہوری اداروں کے استحکام اور قانون سازی و ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں پارلیمانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔

بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے سید یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی کے موقع پر آئی ایس سی کے سیکرٹری جنرل ایکناتھ ڈھاکل سے بھی ملاقات کی۔ اس رابطے میں پارلیمانوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوئی۔چیئرمین سینیٹ نے کمبوڈیا کے پارلیمانی وفد کے سربراہ کے اعزاز میں ظہرانے کی میزبانی بھی کی جس میں پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم ہوا۔آئی پی یو اسمبلی کے موقع پر چیئرمین سینیٹ کی یہ سرگرمیاں پاکستان کی فعال پارلیمانی سفارتکاری، بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ اور عالمی امن و استحکام کے لئے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمانیں مکالمے کے فروغ، تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی سطح پر تعاون، اعتماد اور مفاہمت پر مبنی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

 

مزید خبریں