معروف ماہر معاشیات ،ترقی پسند کارکن ، سائنسدان اختر حمید خان کی برسی منائی گئی

معروف ماہر معاشیات ،ترقی پسند کارکن اور سائنسدان اختر حمید خان کی برسی جمعہ 9 اکتوبر کو منائی گئی۔ انہیں ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے قرضوں، چھوتے مالیاتی امدادی پروگرامز، کسان کے تعاون کے فروغ اور دیہاتی ترقی کے پروگراموں کا بانی کہا جاتا ہے

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):معروف ماہر معاشیات ،ترقی پسند کارکن اور سائنسدان اختر حمید خان کی برسی جمعہ 9 اکتوبر کو منائی گئی۔ انہیں ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے قرضوں، چھوتے مالیاتی امدادی پروگرامز، کسان کے تعاون کے فروغ اور دیہاتی ترقی کے پروگراموں کا بانی کہا جاتا ہے۔ اختر حمید خان 15 جولائی 1914کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔اختر حمید خان نے 1936میں آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا اور سول سروس میں شامل ہو گئے تاہم صرف 9 برس بعد 1945 میں مستعفی ہو گئے۔ اختر حمید خان نے مشرقی پاکستان میں کومیلا میں وکٹوریہ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1958 میں میلا میں دیہی ترقیاتی اکیڈمی قائم کی۔ منصوبے کی کامیابی سے انہیں عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور 1964میں اختر حمید خان کو مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی امریکا نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے مشرقی پاکستان سے آنے والوں کے لئے کراچی میں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور زندگی کے آخری وقت تک اس سے وابستہ رہے۔ اس سے لاکھوں افراد کو رہائشی سہولیات میسر آئیں۔اختر حمید خان کو ہلال امتیاز سمیت فلپائن کی جانب سے رامن میگ سیسے انعام سمیت متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔اختر حمید خان 9 اکتوبر 1999کو امریکا میں وفات پا گئے اور اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے احاطے میں سپردِ خاک کئے گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی۔ادبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے انہیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔