اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کھادوں کی دستیابی، قیمتوں اور ترسیل کے انتظامات کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی وزرائے زراعت، کھاد ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان، صنعت کے نمائندوں اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جاری خریف …
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ، کھاد کی مصنوعی مہنگائی کے خلاف کارروائی کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کھادوں کی دستیابی، قیمتوں اور ترسیل کے انتظامات کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی وزرائے زراعت، کھاد ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان، صنعت کے نمائندوں اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جاری خریف سیزن کے لیے یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ربیع سیزن کی تیاریوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں کے علاوہ بڑی کھاد ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔یوریا کی صورتحال کے جائزہ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ملک کے تمام دس کھاد کارخانے مکمل طور پر فعال ہیں اور اس وقت مارکیٹ میں دس لاکھ ٹن سے زائد یوریا دستیاب ہے۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ ملک میں کہیں بھی یوریا کی قلت نہیں ہے اور موجودہ ذخائر کسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے یوریا کی مسلسل پیداوار اور فراہمی کو یقینی بنانے میں کھاد ساز اداروں اور متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، علاقائی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان یوریا کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہےجس سے کسانوں کو دیگر ممالک کی نسبت شدید قیمتوں کے اثرات سے تحفظ ملا ہے۔انہوں نے بعض علاقوں میں کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے اور قیمتوں میں کسی بھی غیر ضروری اضافہ کو روکا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نقل و حمل یا آپریشنل اخراجات کا بوجھ کسانوں پر منتقل نہیں ہونا چاہیے اور ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری یا مصنوعی قلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
کھاد ساز کمپنیوں کے نمائندوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ یوریا کی صارفین کے لیے مقررہ قیمت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا اور کسانوں کو مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں میں یوریا کی تسلی بخش دستیابی کی اطلاع دی۔ تاہم بعض دور دراز اضلاع میں لاجسٹک مسائل اور امن و امان کی صورتحال کے باعث ترسیل میں رکاوٹوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے تمام متعلقہ فریقوں کو کھاد کی بلاتعطل ترسیل یقینی بنانے کی ہدایت کی اور صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں ڈی اے پی کھاد کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ موجودہ خریف سیزن کے لیے ڈی اے پی کے ذخائر تسلی بخش ہیں، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے، خام مال کی بڑھتی لاگت، علاقائی عدم استحکام اور سپلائی چین سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث آئندہ ربیع سیزن میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے۔ڈی اے پی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے سوال اٹھایا کہ موجودہ ذخائر کی دستیابی کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کھاد ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کی سخت نگرانی کی جائے اور کسانوں کو مصنوعی قلت اور قیاس آرائی پر مبنی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔صوبائی وزرائے زراعت نے ربیع سیزن سے قبل ڈی اے پی کے مناسب ذخائر یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ پنجاب کے نمائندوں نے کہا کہ کھادوں کی مناسب قیمتوں پر دستیابی زرعی پیداوار میں اضافے، کسانوں کی آمدنی کے تحفظ اور قومی غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومتِ پنجاب نے تجویز پیش کی کہ وفاقی حکومت کھاد ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کا ایک خصوصی اجلاس طلب کرے تاکہ ڈی اے پی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے ایک مربوط قومی لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ پنجاب نے اس امر پر زور دیا کہ درآمدی انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں، بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ بروقت رابطہ کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر حکومت سے حکومت کی سطح پر تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں قلت اور قیمتوں میں اضافے سے بچا جا سکے۔وفاقی وزیر نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ وہ اس معاملے پر متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے پہلے ہی رابطے میں ہیں تاکہ کھادوں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ ترین سطح پر مشاورت کی جائے گی تاکہ ربیع سیزن کے لیے کھادوں کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے ایک مشترکہ قومی حکمت عملی وضع کی جا سکے ۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کھادوں کی دستیابی، مناسب قیمتوں پر فراہمی اور بروقت ترسیل قومی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور ملک بھر میں کھادوں کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں، کھاد ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گی۔







