وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں چینی کی مجموعی دستیابی، موجودہ ذخائر اور ملکی ضروریات کا جائزہ لیا گیا
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی شوگر ملز مالکان کو گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں چینی کی مجموعی دستیابی، موجودہ ذخائر اور ملکی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں تمام صوبوں، کسانوں اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکا ءنے دستیاب اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے صارفین، کسانوں اور شوگر انڈسٹری کے نقطہ نظر سے چینی کی مجموعی صورتحال پر غور کیا۔دستیاب اعداد و شمار، ملکی ضروریات اور چینی کے موجودہ ذخائر کا جائزہ لینے کے بعد اجلاس میں 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے شوگر ملز مالکان کو ہدایت کی کہ گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں اور کسانوں کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسان زرعی معیشت کا اہم ستون ہیں اور ان کے جائز مفادات کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے تاہم شوگر سیکٹر کی پائیدار ترقی کے لیے کسانوں اور صنعت کے مفادات میں توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ ملکی ضروریات اور دستیاب ذخائر کا جامع جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ حکومت چینی کی ملکی مارکیٹ میں مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر نے شوگر سیکٹر میں استحکام کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، کسانوں اور شوگر انڈسٹری کے درمیان موثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی فیصلے دستیاب اعداد و شمار اور زرعی معیشت کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور شوگر سیکٹر کی متوازن و پائیدار ترقی کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔








