اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو نظر ثانی اپیل کے نتائج کا ادراک تھا لیکن اس کے باوجود عدالت عظمیٰ میں گئے ، مریم نواز نے این اے 120 میں کامیابی سے انتخابی مہم چلائی ہے جس پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ، لاہور، ملتان کے وکلاءاور بینچ کے درمیان واقعے …
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو نظر ثانی اپیل کے نتائج کا ادراک تھا لیکن اس کے باوجود عدالت عظمیٰ میں گئے ، مریم نواز نے این اے 120 میں کامیابی سے انتخابی مہم چلائی ہے جس پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ، لاہور، ملتان کے وکلاءاور بینچ کے درمیان واقعے کو ہمارے ساتھ جوڑا گیا جو درست نہیں ، حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمہ کو ری اوپن کرنا غیر قانونی ہے ۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آج سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی درخواست پر مختصر فیصلہ سنیایا ہے ، جس سے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کے خاندان کو انصاف نہیں مل سکا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ 28 جولائی کے عوامی فیصلہ اور جے آئی ٹی کی تشکیل کے طریقہ کار پر ہمارے تحفظات رہے ہیں، ہمیں نظر ثانی کی اپیل کے نتائج کا پہلے ہی کچھ نہ کچھ اندازہ تھا ،جب نظر ثانی اپیل کی سماعت کے لئے تین رکنی بینچ بنا تو ہم نے استدعا کی کہ 5رکنی بینچ بنایا جائے ، ہمارا مقصد تھا فیصلے میں جو خلاء رہ گیا ہے اس کی اصلاح ہو سکے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ جب بد قسمتی سے ملتان اور لاہور کے کچھ وکلاءنمائندوں اور بینچ اور بار میں افسوسناک واقعہ رونما ہوا، حکومت نے قانون کے مطابق عدلیہ کو تحفظ دیا تاہم بعض لوگوں نے اس واقعہ کو ہمارے ساتھ جوڑا جو درست نہیں ہے جبکہ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ جج صاحبان کو رپورٹ دی گئی کہ ان وکلاءکو کسی حکومتی شخصیت کی حمایت حاصل ہے، اس شخصیت نے اپنی پوزیشن کو واضح کیا۔








