اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):عالمی بینک کے عملدرآمد سپورٹ مشن برائے کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن پروگرام (سی آر آئی ایس پی ) اور نیشنل سوشل پروٹیکشن پروگرام (این ایس پی پی ) نے سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ/ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان کی قیادت میں پیر کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ شازیہ مری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے …
وفاقی وزیر شازیہ مری سے عالمی بینک کے عملدرآمد سپورٹ مشن برائے سی آر آئی ایس پی کی ملاقات
اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):عالمی بینک کے عملدرآمد سپورٹ مشن برائے کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن پروگرام (سی آر آئی ایس پی ) اور نیشنل سوشل پروٹیکشن پروگرام (این ایس پی پی ) نے سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ/ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان کی قیادت میں پیر کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ شازیہ مری سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران مشن کے رہنما امجد ظفر خان نے وفاقی وزیر کو مشن کے بنیادی مقاصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد CRISP اور NSPP کے لیے گزشتہ مشترکہ عمل درآمد سپورٹ مشن کے دوران پیش رفت کی صورتحال کا جائزہ لینا، نئے چیلنجز کی نشاندہی کرنا، آئندہ چھ ماہ کے دوران عمل درآمد کے لیے منصوبوں کا تعین کرنا اور اس سے متعلق ابتدائی بات چیت کے لئے این ایس پی پی کی رپورٹ کی تیاری پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
شازیہ مری نے عالمی بینک کے مشن کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کو مسلسل اور قابل قدر مدد فراہم کرنے میں ایک بڑے ترقیاتی پارٹنر کے طور پر عالمی بینک کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ عالمی بینک نے صحت اور تعلیم سے متعلق نقد مالی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے انسانی سرمائے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شازیہ مری نے بی آئی ایس پی کو کئی ممالک کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا حتمی ہدف بالخصوص موجودہ معاشی صورتحال میں غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے غریبوں کے فائدے اور SDGs کے حصول کے لیے جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پروگرام کی ڈیزائننگ اور نفاذ میں بی آئی ایس پی کی جانب سےعالمی بینک کے مشن کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وفاقی وزیر نے ان ممالک کے ساتھ معلومات کے اشتراک کی خواہش کا بھی اظہار کیا جو اس نوعیت کے سماجی تحفظ کے پروگرام شروع کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ملک کے کمزور طبقات کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقوں سے سیکھنے اور انہیں غربت سے نکالنے میں مدد کرنے کا خواہاں ہے۔عالمی بینک کی جانب سے امجد ظفر خان، میلس یو گوون، سینئر سوشل پروٹیکشن اکانومسٹ، رندا جی الراشدی، سوشل پروٹیکشن سپیشلسٹ اور گل نجم جامی نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عصمت طاہرہ، سیکرٹری بی آئی ایس پی کے علاوہ بی آئی ایس پی کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔









