وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے روش کے علاقائی سربراہ نے ملاقات کی جس میں پاکستان میں مریضوں کو جدید ادویات اور علاج تک رسائی بہتر بنانے کے لیے تعاون کے مختلف امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران کینسر سمیت مختلف پیچیدہ اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے جدید ادویات تک مریضوں کی رسائی، سرکاری و …
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے روش کے علاقائی سربراہ کی ملاقات، پاکستان میں مریضوں کو جدید ادویات اور علاج کی رسائی بہتر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے روش کے علاقائی سربراہ نے ملاقات کی جس میں پاکستان میں مریضوں کو جدید ادویات اور علاج تک رسائی بہتر بنانے کے لیے تعاون کے مختلف امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران کینسر سمیت مختلف پیچیدہ اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے جدید ادویات تک مریضوں کی رسائی، سرکاری و نجی شعبے کے باہمی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی آنکولوجی منصوبہ سرکاری و نجی شعبے کے موثر تعاون کی ایک اہم مثال ہے، اس شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں کینسر کے علاوہ سپائنل مسکولر ایٹروفی، ہیموفیلیا، ملٹی پل اسکلروسس اور دیگر نایاب بیماریوں کے علاج میں تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ کینسر رجسٹری کے قیام کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)، وزارت صحت اور روش کے درمیان تعاون کو عملی شکل دی جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نجی شعبے اور عالمی اداروں کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے جدید علاج اور ادویات تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی فلاح و بہبود اور انہیں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔ملاقات میں صحت کے شعبے میں جدید علاج، ادویات تک رسائی اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔








