وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 7ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو باقاعدہ اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے، بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کے پاس اختیار ہونا چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے …

اسلام آباد ۔ 7ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو باقاعدہ اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے، بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کے پاس اختیار ہونا چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے پیسہ وطن واپس لانے کے لیے ”میوچل لیگل اسسٹنس“ سسٹم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کے لیے حکومتی اداروں میں تعاون بھی ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق کیسز کو بھی جلد حل کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی سرکاری عہدیدار کے پاس بیرون ملک ناجائز پیسہ ہو تو اسے واپس لانا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ بیرون ملک سے پیسہ وطن واپس لانے کے معاملے پر اہم بریک تھرو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی نئی حکومت ہے ہر چیز کا ارتقاءہے لیکن ہم مثبت سمت میں گامزن ہیں اور ملک وقوم کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں اور انشااللہ یہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قانونی اثاثوں کو تحفظ فراہم کرے گی کیونکہ ہماری حکومت بزنس فرینڈلی پالیسیز چاہتی ہے تاکہ ملک و قوم خوشحال ہوں لیکن کوئی بھی ہولڈر آف پبلک آفس یا بیورو کریٹ ہو تو اس کے غیر قانونی پیسوں کو واپس ضرور لانا ہے اور اس کے لیے ہم کوشاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں ٹیکس چوری اور لوٹی ہوئی دولت باہر لے جانا دونوں میں فرق ہے اور ان دونوں معاملات کو الگ الگ طریقے سے ہی ہینڈل کیا جائے گا۔ ہم ”میوچل لیگل اسسٹنس“ سسٹم کے حوالے سے ایک آرڈیننس لا رہے ہیں جو بہتر طریقے سے ان معاملات کو حل کرے گا۔

مزید خبریں