وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کی معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 12 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کو مبینہ ویڈیو اور پریس ریلیز کی بناءپر مزید کام کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ ان کی خدمات ان کے اپنے محکمہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس کی جائیں گی، نیب کے قانون کے مطابق اگر جج کو دھمکی …

اسلام آباد ۔ 12 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کو مبینہ ویڈیو اور پریس ریلیز کی بناءپر مزید کام کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ ان کی خدمات ان کے اپنے محکمہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس کی جائیں گی، نیب کے قانون کے مطابق اگر جج کو دھمکی یا سفارش کی پیشکش کی جائے تو اس کی سزا 10 سال ہے، جج کو کام سے روکنے پر ان کے فیصلوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی زیر سماعت اپیل پر فیصلہ کرنا ہے، کسی کو عدالت پر دباﺅ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جاتی امراءمیں نواز شریف سے ارشد ملک کی ملاقات کرائی گئی، عمرے پر حسین نواز جج ارشد ملک کو ملے اور 50 کروڑ کی پیشکش کی، وہ لندن میں اپنے فلیٹس کی منی ٹریل دیں اور بری ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کی سہ پہر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply