اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کسی معزز جج یا وکیل کی نہ کوئی جاسوسی ہوئی ہے نہ ہو رہی ہے اور نہ ہو گی۔اسلام آباد میں عالمی طرز پر فیڈل لاءیونیورسٹی ہونی چاہئے جس کے کیمپس چاروں صوبوں کے بڑے شہروں میں ہوں۔وکلا کی بہبود اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر اقدام …
وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم کا اسلام آباد بار کونسل کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کسی معزز جج یا وکیل کی نہ کوئی جاسوسی ہوئی ہے نہ ہو رہی ہے اور نہ ہو گی۔اسلام آباد میں عالمی طرز پر فیڈل لاءیونیورسٹی ہونی چاہئے جس کے کیمپس چاروں صوبوں کے بڑے شہروں میں ہوں۔وکلا کی بہبود اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر اقدام کیا جائے گا۔اسلام آباد بار کونسل کے لئے 50 لاکھ روپے فنڈ فراہم کرنے کرنے کا بھی اعلان کیا۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے اسلام آباد بار کونسل کے زیر اہتمام وکلا میں سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بار کونسلز یا بار ایسوسی ایشنز جب بھی دعوت دیتی ہے میں خوش ہو کر جاتا ہوں کیونکہ میں ان کو اپنا گھر سمجھتا ہوں ۔انہوں نے کہا گزشتہ برس ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور نے دعوت دی اس تقریب میں شرکت کی اور بار ایسوسی ایشن نے مجھے تاحیات ممبر شپ بھی دی ۔فروغ نسیم نے کہا کہ اسلام آباد بار کونسل کا وفد ملاقات کرنے آیا تھا تو ان سے وکلاءکی فلاح و بہبود کے لئے مشاورت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور وکلاءکو با اختیار بنانے کے لئے تمام وسائل بروے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا طاقت ور اور آزاد ہے۔ میں نے وکلاءگردی جیسے الفاظ استعمال کرنے کی مخالفت کی ۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال بھی ایک وکیل تھے جن کی کوششوں سے پاکستان قائم ہوا۔انہوں نے کہا کہ وکالت ایک عظیم پروفیشن ہے اور وکلاءکو ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جس کے باعث برادری کو شرمندگی اٹھانا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سابق صدر براک حیسن اوباما بھی ایک وکیل ہیں۔انہوںنے کہا کہ اسلام آباد کے وکلاء1980سے محنت و کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایک اہم شہر ہے اور یہاں کی عدالتیں اور انتظامیہ کو بااختیار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلاءکو محنت کے ذریعے مقام پیدا کرنا چاہیئے ۔وزیر قانون نے کہا کہ اسلام آباد میں عالمی طرز پر فیڈرل لاءیونیورسٹی کا قیام ہونا چاہئے اور تمام صوبائی دارالحکومت میں اس کے کیمپس کا قیام عمل میں لایا جائے ۔انہوںنے کہا کہ جس طرح یونیورسٹی آف لندن نے ایڈوانس سٹڈی کالج بنایا ہوا ہے اسی طرح پاکستان میں ہونا چاہئے ۔بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ الیکشن ختم ہونے کے بعد گروپ بندی بھی ختم ہونی چاہیئے جو اچھا کام ہو رہا ہو اس میں روڑے نہیں اٹکانے چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی ویلفیئر اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر کام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ذہن میں ہے کہ اسلام آباد بار کونسل سے منسلک کر کے لاءیونیورسٹی بنائی جائے۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہر میڈیکل یونیورسٹیز کسی نہ کسی اسپتال سے منسلک ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی عدالتوں میں انصاف کا حصول تیزی سے مل سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار کونسل کا سیکرٹریٹ سپریم کورٹ کے قریب ریڈ زون میں ہونا چاہئے اس ضمن میں چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایات جاری کر دی ہیں ۔ وزیر قانو ن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت اسی سال شاہراہ دستور پر نئی بلڈنگ میں شفٹ ہو جائے گی۔بیرسٹر محمد فروغ نسیم نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد کم از کم 15 ہونی چاہئے اور تمام ججز کی تعیناتیاں میرٹ پر ہونی چاہئیں ۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ صوبائی تعصب کو ختم ہونا چاہئے پنجاب میں یہ تعصب ختم ہو چکا ہے لاہور ہائی کورٹ کا جج اگر کراچی شفٹ ہو تو اسے سندھ ہائی کورٹ بھی بھجوایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ انگریز کے جس سوا سو سال پرانے قانون پر ہم چل رہے ہیں وہ خود اس میں کتنی بار ترامیم کر چکا ہے لہذا ہمیں بھی تبدیلی کرنی چاہیئے ۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کسی جج یا وکیل کی کوئی جاسوسی نہیں ہوئی، نہ ہو رہی ہے اور نہ ہو گی۔تقریب سے بار ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین قاضی رفیع الدین بابر، ممبر ہارون الرشید ،جاوید سلیم شورش سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیںوفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نیسم کے اسلام آباد بار کونسل پہنچنے پر پاکستان تحریک انصاف لائرز فورم کے صدر سردار احمد اقبال میکن نے فورم کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پرتباک استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔









