اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ وتحقیق سید فخرامام نے کہا ہے کہ غذائی خودکفالت کی منزل کے حصول کیلئے وفاق اورصوبوں کو مل کراقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان کو زراعت میں مکمل طورپرخودکفیل بنانا ہمارا ہدف ہے، بیجوں کے معیار اور پیداوار میں بہتری، پانی کے بہتر استعمال اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے معقول ٹیرف سے نہ صرف پیداوار بلکہ پاکستان کی …
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ وتحقیق کاقومی اسمبلی میں زرعی پالیسی اورزرعی مسائل سے متعلق بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ وتحقیق سید فخرامام نے کہا ہے کہ غذائی خودکفالت کی منزل کے حصول کیلئے وفاق اورصوبوں کو مل کراقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان کو زراعت میں مکمل طورپرخودکفیل بنانا ہمارا ہدف ہے، بیجوں کے معیار اور پیداوار میں بہتری، پانی کے بہتر استعمال اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے معقول ٹیرف سے نہ صرف پیداوار بلکہ پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کوقومی اسمبلی میں زرعی پالیسی اورزرعی مسائل سے متعلق بحث کو سمیٹتے ہوئے کہی۔ سید فخرامام نے کہاکہ موجودہ پارلیمان اور بالخصوص سپیکر نے زراعت کے شعبہ میں جس دلچسپی کامظاہرہ کیاہے وہ خوش آئند ہے، ایوان کی زراعت کی کمیٹی بنائی گئی۔ یہ کمیٹی سارے کاشت کاروں کی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی پالیسی اور پاکستان کے کاشت کاروں کے مسائل کے حوالہ سے ایوان میں جو سیر حاصل بحث ہوئی ہم اس پر تمام اراکین کے مشکورہیں۔ تجاویز میرے پاس موجود ہیں، جو بنیادی مسائل ہیں وہ سامنے آ گئے ہیں۔ سید فخر امام نے کہاکہ وزیراعظم نے بجٹ سیشن کی تکمیل کے موقع پر اپنی تقریر میں دو باتیں کہیں کہ کوویڈ کے بعد تعمیرات کی صنعت اور زراعت ایسے شعبے ہیں جو ملک کو اقتصادی طورپرآگے لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پوراسال گندم کی قیمت اورفراہمی کو یقینی بنانے کیلئے گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کیلئے ایک اہم چیلنج پانی کا بھی ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک بالخصوص آسٹریلیا اور امریکا میں آبپاشی کیلئے جس طریقے سے پانی استعمال کیا جارہاہے ہم وہ نہیں کررہے۔ پاکستان میں آبی ذخائر کم ہونے کی وجہ سے پانی سمندرمیں جاتا رہاہے، وزیراعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم کا افتتاح کردیا ہے یہ پانی کومحفوظ بنانے کی ضمن میں سمت کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ تربیلہ اورمنگلہ کے بعدپاکستان میں ایک بھی ڈیم نہیں بن سکاہے جبکہ اس کے مقابلے میں چین نے پزاروں ڈیم بنائے ہیں، پاکستا ن نے چین کے ساتھ مل کر جو ایگریمنٹ کیا ہے اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتربنانا ہوگا۔ پاکستان کاکینال سسٹم ڈیڑہ سوسالہ پراناہے۔ ہمیں پانی کی بوند بوند کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کاشت کاروں کی استعدادکارمیں بہتری کیلئے کوشش کرے گی۔ 23 ملین ہیکٹر زرعی اراضی میںاستعداد سازی کے ذریعے نہ صرف پیداوارمیں اضافہ کیا جاسکتاہے بلکہ ملکی برآمدات میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختصرمدتی اقدامات میں بیجوں پرتحقیق شامل ہے ۔ تحقیق کے عمل کوبہتر بنانایوگا۔ تحقیق کو کاشت کارتک پہنچانا اوراس کا سودمند ہونا بھی اہم ہے۔ گندم ، کپاس، گنا، دھان اور مکئی ہماری اہم فصلیں ہیں۔ پنجاب سیڈکارپوریشن پہلے کپاس کے 30 فیصد اور گندم کا 20 فیصد بیج فراہم کررہی تھی۔ ہمیں معیاری بیج کا احیاءنو کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں وفاق نہ صرف صوبوں کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ خود بھی سبسڈی دینے کی کوشش کرے گا۔ بیجوں کی منظوری وفاق دے گا۔ بیجوں کی مقدارکو بڑھایا جائیگا۔ سید فخر امام نے کہاکہ پاکستان میں کپاس کی پیداوارکم ہوئی ہے۔ کاٹن سیڈ کی تیاری کا عمل بہتربنانا ضروری ہے ، کوشش کریں گے کہ سندھ اورپنجاب آنیوالی فصلوں کیلئے بیجوں کی خریداری ابھی سے شروع کرے، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں فصلوں اوربیجوں کے معیارپرتوجہ نہیں دی گئی ، اس کیلئے ایک ایکٹ بھی ہے مگراس پرعمل درآمد نہیں ہوا، جوکاشت کاربہتر پیداوارحاصل کرتا ہے اسے معاوضہ نہیں دیا جاتا، اس میں درستگی ضروری ہے، معیارکی بہتری سے برآمدات کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ پیداورکیلئے وئیرہاوسز اورگودام بھی مناسب تعدادمیں نہیں ہیں ، سٹوریج سسٹم فرسودہ ہے ،اس ضمن میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی طرف جانا ہوگا، اس وقت کینو اورآلو کیلئے سٹوریج ہے لیکن اس کی گنجائش بہت کم ہے۔سیدفخرامام نے کہاکہ پاکستان اس وقت 600 ملین ڈالرمالیت پھل اورسبزیاں برآمدکررہاہے جو استعداد سے بہت کم ہے، اس میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت زراعت کے شعبہ پرتوجہ دے رہی ہے اس ضمن میں کسانوں اورکاشت کاروں کیلئے دوپیکجز کی منظوری بھی دی گئی ہے ، کھادوں پر 37 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے ، اسی طرح زرعی ٹیوب ویلزکیلئے بجلی کے نرخوں پر وزارت توانائی اوروزارت خزانہ سے بات کی گئی ہے ، پاکستان میں تین لاکھ دس ہزارٹیوب ویلز ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ ان ٹیوب ویلوں کو مناسب قیمت پربجلی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے ، انہوں نے تین چارماہ بعد زراعت پر ایوان میں ڈیبیٹ کی تجویز بھی دی اورکہاکہ پاکستان کو زراعت میں مکمل طورپر طورپرخودکفیل بنانا ہمارا ہدف ہے۔ قبل ازیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے امجد علی خان نے کہاکہ زراعت کو ایک عرصہ سے نظراندازکیا گیا،ہمارے کسانون اورہاریوں کی بدقسمتی رہی ہے کہ وہ پانی ، سستی کھاد، بیجوں اوربجلی کی سہولیات کیلئے ترستے رہے ہیں۔2015-16ءمیں اس ایوان میں ، میں نے کہاتھا کہ آج بجلی کیلئے رورہے ہیں کل پانی کیلئے روئیں گے، پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی شرح 9 فیصد ہے، معاہدوں کی وجہ سے آج کسانوں کو مہنگی بجلی دی جارہی ہے، ان معاہدوں سے پاکستان کے لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طویل عرصہ سے بڑے ڈیموں پرسیاست ہوتی رہی اوراس اہم مسئلہ کو علاقائیت اورتعصب کی بھینٹ چڑھایا گیا۔انہوں نے کہاکہ دوبڑے ڈیموں کا افتتاح خوش آئند ہے، یہ زیرالتوا تھے، ہرصوبہ میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے، میری تجویز ہوگی کہ پلاننگ ڈویژن کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی وضع کی جائے کہ کسانوں کو پانی اورسستی بجلی بھی ملے۔ انہوں نے کہاکہ فی ایکڑ پیداوارمیں اضافہ بھی وقت کی ضرورت ہے، بیجوں کے معیارپرتوجہ دینا ہوگی، سستی بجلی اوراچھا بیج مہیاکرکے فی ایکڑ پیداوارمیں اضافہ ممکن ہے ، کورونا وبا میں زراعت نے پاکستان کی معیشت کو سہارادیاہے۔ انہوں نے کہاکہ کھادکی سبسڈی کے طریقہ کارکوبہترکیا جائے اوراس میں مڈل مین کے کردارکو ختم کیا جائے۔میانوالی، خوشاب اوبھکرمیں پانی کی سطح نیچی ہے اورپانی نکالنے کیلئے بجلی کے اخراجات بہت زیادہ ہے، اس کیلئے ہمیں ٹیوب ویلوں کو سولرسسٹم پرمنتقل کرنا ہوں گے۔ رکن قومی اسمبلی ذوالفقار علی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ زراعت پربھرپورتوجہ دینی چاہئے۔ زرعی اداروں ، یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں کو فعال بناناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ چین کی طرح پاکستان میں زرعی چیمبرز اورکسانوں کی ایسوسی ایشنز بنانا ہوںگی۔ زرعی ان پٹس کی قیمتوں میں کمی ، بیجوں کے معیارمیں بہتری، زراعت پرمبنی صنعت کے فروغ پرتوجہ دیئے بغیرملکی پیداوارمیں اضافہ ممکن نہیں، کسانوں کے ساتھ بیٹھ کران پٹس کی قیمتوں کو تین سال کیلئے فریز کیا جائے۔ تحریک انصاف کے رکن قاسم نون نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ زرعی پالیسی اوراصلاحات کے حوالہ سے اس پارلیمان نے جو اقدامات کئے ہیں اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ سی پی آر کے طریقہ کارکوتبدیل کرکے شوگرملز کے ہاتھوں کسانوں کے استحصال کے خاتمہ کیلئے اقدامات کئے جائیں، اس میں سٹیٹ بینک ، زیڈ ٹی بی ایل اورکمرشل بینکوں کو شامل کرنا چاہئے۔ جب تک زرعی ترقیاتی بینک کو مالیاتی انجکشن نہیں دیا جاتا اس وقت تک کسانوں کوقرضہ جات کی فراہمی کا طریقہ کاربہترنہیں بنایا جاسکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنوازرانجھا نے کہاکہ پاکستان میں ہارٹی کلچرکی بڑی اہمیت ہے، یہ زراعت کا حصہ ہے، سرگودھا میں کینوکی پیداوارکا زیادہ حصہ پاکستان برآمد کرتا رہاہے۔ مسلم لیگ ن نے سٹرس ڈویلپمنٹ بورڈ بنایا تھا، کینیا میں ٹی بورڈ ہے جس نے چھوٹے کاشت کاروں کو چھوٹے قرضے دیئے۔ ان چھوٹے کاشت کاروں نے کینیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے پاس کئی پھل اورسبزیاں ہیں ، ان میں کسانوں کی مہارت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔








