وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد سے پاکستان–چین بی ٹو بی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی۔ہفتہ کوبورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ (SDHS) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین ر شو ژیانگ کر رہے تھے جبکہ کنٹری ڈائریکٹر مسٹر وانگ …
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد سے پاکستان–چین بی ٹو بی کانفرنس کے موقع پر ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد سے پاکستان–چین بی ٹو بی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی۔ہفتہ کوبورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ (SDHS) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین ر شو ژیانگ کر رہے تھے جبکہ کنٹری ڈائریکٹر مسٹر وانگ ژینرونگ اور تبانی گروپ کے نمائندگان بھی وفد میں شامل تھے۔ یہ ملاقات اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں جاری پاکستان–چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس (فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی سیکٹر) کے موقع پر ہوئی۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ملاقات کے آغاز میں وفد نے معزز وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اہم دوطرفہ سرمایہ کاری روابط کے دوران ملاقات کی۔
وفاقی وزیر نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے دورے کو سراہا۔وفاقی وزیر نے چینی کاروباری شخصیات کے ساتھ اپنے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کو اجاگر کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ میں تبانی گروپ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک تعلقات اور بدلتے علاقائی تناظر میں اقتصادی تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات پر زور دیا۔شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد نے اپنے عالمی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چین کے بڑے سرکاری انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری اداروں میں شامل SDHS کے اثاثے ایک کھرب آر ایم بی سے زائد ہیں اور اس کی سرگرمیاں 100 سے زائد ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔
گروپ 10 ہزار کلومیٹر سے زائد موٹرویز اور تقریباً 3 ہزار کلومیٹر ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک چلاتا ہے، جبکہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی، لاجسٹکس اور صنعتی ترقی میں نمایاں سرمایہ کاری رکھتا ہے۔وفد نے پاکستان میں جاری منصوبوں، خصوصاً تیل و گیس کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا، جن میں او جی ڈی سی کے ساتھ حیدرآباد میں ایک حالیہ منصوبہ شامل ہے۔ بطور ایک بڑی انفراسٹرکچر کمپنی، انہوں نے پاکستان میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور کنیکٹیویٹی سمیت انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے اس دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین وقت ہے، جہاں نوجوان آبادی، وسیع معاشی صلاحیت اور بہتر ہوتا ہوا کاروباری ماحول موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور چین و وسطی ایشیا تک رسائی دینے والے رابطہ کاری نظام کو نمایاں قرار دیا۔اپنے کاروباری پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) پائیدار اور باہمی فائدہ مند ترقی کے لیے مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور خصوصاً چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ مکمل تعاون سے پاکستان–چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا، جس کا مقصد شعبہ جاتی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) سرمایہ کاروں کو ہر مرحلے پر مکمل سہولت فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اصلاحات اور ادارہ جاتی معاونت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔وفد نےوفاقی وزیر کو چین کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے جاری منصوبوں کا معائنہ کر سکیں اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی شراکت داریوں کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔








