وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی چینی قونصلر یانگ گوانگ یوان سے ملاقات، سی پیک فیز ٹو کے تحت سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے چین کے قونصلر یانگ گوانگ یوان نے اہم ملاقات کی جس میں سی پیک فیز ٹو کے تحت دوطرفہ سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ہونے والی ملاقات

اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے چین کے قونصلر یانگ گوانگ یوان نے اہم ملاقات کی جس میں سی پیک فیز ٹو کے تحت دوطرفہ سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ہونے والی ملاقات میں سی پیک فیز ٹو کے مستقبل کے لائحہ عمل پر توجہ مرکوز کی گئی خصوصاً چینی نجی شعبے کی کمپنیوں سے صنعتی اور پیداواری شعبوں میں عملی سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے جاری خصوصی اقتصادی زونز کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور انہیں صنعتی ترقی کے کامیاب ماڈلز میں تبدیل کرنے کے لئے حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔وفاقی وزیر نے نجی شعبے کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک فیز ٹو چینی کمپنیوں کے لئے پاکستان کے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مؤثر سرمایہ کاری کے حصول کے لئے مضبوط رابطہ کاری، بہتر ابلاغ اور باہمی اعتماد کا فروغ ناگزیر ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے معلوماتی خلا ء اور سکیورٹی خدشات پر مزید کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

چینی قونصلر یانگ گوانگ یوان نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معلوماتی خلا کو ختم کرنا چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعدد وفود پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تاہم ان کا عملی سرمایہ کاری میں تبدیل ہونا محدود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور چینی سفارتخانہ باہمی تعاون سے آگاہی بڑھانے اور سرمایہ کاروں کو متعلقہ اداروں سے مؤثر انداز میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔قونصلر نے وعدوں کی پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سرمایہ کاروں سے کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے چینی سفارتخانے کے ساتھ قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سفارتخانے کی تائید یافتہ منصوبے چینی سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔دونوں فریقین نے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت بورڈ آف انویسٹمنٹ منصوبوں کی تفصیلات پیشگی طور پر سفارتخانے کے ساتھ شیئر کرے گا جبکہ سفارتخانہ ممکنہ چینی سرمایہ کاروں کی فہرست فراہم کرے گا۔

اس مربوط حکمت عملی سے مؤثر روابط اور بہتر سرمایہ کاری نتائج حاصل کئے جا سکیں گے۔وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کے مثبت نتائج کا بھی ذکر کیا جہاں اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری ارفع اقبال نے سکیورٹی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ متعلقہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں، بشمول وزارت داخلہ، کے ساتھ روابط کو یقینی بنا کر چینی سرمایہ کاروں اور حکام کے لیے بہتر سکیورٹی انتظامات میں معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں کامیاب مثالیں قائم کی جائیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے چینی قونصلر کو اپنے آبائی شہر چنیوٹ کے دورے کی خصوصی دعوت بھی دی، جو اپنے عالمی شہرت یافتہ ہاتھ سے تیار کردہ فرنیچر کے لئے معروف ہے اور برآمدی بنیادوں پر سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔

دونوں فریقین نے سی پیک کے مقاصد کے حصول کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جس طرح فیز ون کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی ممکن ہوئی، اسی طرح فیز ٹو کے ذریعے صنعتی ترقی اور معاشی نمو کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم کے متوقع دورے کو بھی دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ایک اہم موقع کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ملاقات میں اس عزم کے ساتھ ہوا کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت سرمایہ کاری کے فروغ اور عملی نتائج کے حصول کے لئے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور سہولت کاری کے لئے پُرعزم ہے۔