پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے غیر ملکی شوہر کو قانونی حیثیت کے تعین تک محض انتظامی تاخیر کی بنیاد پر جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ
پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے غیر ملکی شوہر کو قانونی حیثیت کے تعین تک محض انتظامی تاخیر کی بنیاد پر جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے غیر ملکی شوہر کی شہریت یا پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) سے متعلق درخواست زیر التوا ہونے کی صورت میں صرف انتظامی کارروائی میں تاخیر کو بنیاد بنا کر اسے قید میں رکھنا مناسب نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر الزام صرف قانونی دستاویزات کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان میں قیام کا ہو اور غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کا الزام موجود نہ ہو تو ایسے مقدمے میں ضمانت پر عائد قانونی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جلات خان کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 دو مختلف نوعیت کے جرائم کا احاطہ کرتی ہے۔ دفعہ 14(1) ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو قانونی طور پر پاکستان آنے کے بعد ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کریں جبکہ دفعہ 14(2) صرف ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوں۔ عدالت نے کہا کہ ضمانت پر پابندی سے متعلق دفعہ 14 اے صرف دفعہ 14(2) کے مقدمات پر لاگو ہوتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں درخواست گزار کے خلاف غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کا کوئی الزام موجود نہیں بلکہ مقدمہ صرف اس کے قیام سے متعلق ہے، اس لئے بادی النظر میں یہ معاملہ دفعہ 14(1) کے دائرہ کار میں آتا ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ایسے مقدمات میں ضمانت اصول جبکہ انکار استثنیٰ ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے غیر ملکی شوہروں کی شہریت سے متعلق قانونی نظام میں موجود صنفی عدم مساوات فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ وفاقی شرعی عدالت 2008 میں قرار دے چکی ہے کہ پاکستانی شہریت ایکٹ 1951 کی دفعہ 10، جو صرف غیر ملکی خواتین کو پاکستانی شوہر کی بنیاد پر شہریت کا راستہ فراہم کرتی تھی، امتیازی اور آئین سے متصادم ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف شریعت اپیلیٹ بینچ میں اپیل تاحال زیر التوا ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے 1994 میں پاکستانی شہری تسلیم بی بی سے رجسٹرڈ نکاح کیا، ان کے بچے بھی ہیں اور پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی اس کی پی او سی درخواست اور بچوں کی شہریت سے متعلق متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر چکی ہے۔ ایسے حالات میں انتظامی فیصلے میں تاخیر کو سزا کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کی ازدواجی حیثیت، بچوں کی موجودگی اور اس کی قانونی حیثیت کے تعین سے متعلق عدالتی کارروائی زیر التوا ہونے کے باعث معاملہ مزید تفتیش کا متقاضی ہے، اس لئے قبل از ٹرائل حراست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا اور جلات خان کی بعد از گرفتاری ضمانت 20 ہزار روپے کے مچلکوں اور دو ضامنوں کے عوض منظور کر لی۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دیے گئے تمام مشاہدات ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کا اثر مقدمے کے ٹرائل یا شہریت، ڈومیسائل، قومی شناختی کارڈ یا پی او سی سے متعلق زیر التوا کارروائی پر نہیں پڑے گا۔







