وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ کے علاقے العزیزیہ میں عازمینِ حج کی رہائشی سہولیات کے دورے کے دوران اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام اور عازمینِ حج سے ملاقات کی ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کی اہل تشیع عازمین کو پاکستان اور سعودی عرب میں مسلک کے مطابق مناسک اور قربانی کی ادائیگی کی یقین دہانی

مزید خبریں
مکہ مکرمہ۔22مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ کے علاقے العزیزیہ میں عازمینِ حج کی رہائشی سہولیات کے دورے کے دوران اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام اور عازمینِ حج سے ملاقات کی ہے۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے العزیزیہ میں رہائشی عمارتوں کا معائنہ کیا اور وہاں مقیم اہل تشیع عازمین سے ملاقات کر کے سعودی عرب میں فراہم کی جانے والی رہائش، کھانے اور سفری سہولیات کے معیار کے بارے میں دریافت کیا۔ ملاقات کرنے والے وفد میں آغا محمد شفا نجفی، سید اخلاق حسین کاظمی، تنویر الکاظم، سید فرحان عباس اور دیگر معزز عازمینِ حج شامل تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے پاکستانی عازمین کو پختہ یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان ان کے مسلک کے عین مطابق مناسکِ حج کی ادائیگی اور ان کی نظروں کے سامنے قربانی کا عمل مکمل کرانے کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ملاقات کے دوران علماکرام اور عازمین نے وزارتِ مذہبی امور کے اقدامات پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حج 2026 کے لیے وزارت مذہبی امور پاکستان اور سعودی عرب دونوں جگہوں پر ہمارے مسلک کے لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے اور ہمیں مکمل معاونت حاصل ہے۔علما نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ حج آپریشن کو فول پروف بنانے کے لیے وزارتِ مذہبی امور نے پاکستان ہی میں روانگی سے قبل ‘زوم’ کے ذریعے ہماری میٹنگ سعودی عرب کے "اضاحی پراجیکٹ” (قربانی کے ذمہ دار سرکاری ادارے) کے اعلیٰ حکام سے کرائی تھی، جس میں ہم نے اپنے مسلک کے مطابق قربانی کے تمام شرعی امور اور ضوابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ پہنچنے پر انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سعودی عرب پہنچ گئے تو ہمارے تمام مطالبات من و عن تسلیم کر لیے گئے ہیں اور اب قربانی کے مقررہ وقت پر ہمارے جید علماکا وفد ذبح خانوں میں خود وہاں موجود ہوگا تاکہ ہمارے فقہی تقاضے سو فیصد پورے کیے جا سکیں۔واضح رہے کہ پاکستان حج مشن کے طے شدہ مشاعر آپریشن اور منیٰ روانگی کے مائیکرو پلان کے مطابق، امسال سرکاری حج سکیم کے تحت آنے والے تمام 3100 اہل تشیع عازمینِ حج کو ان کے فقہی تقاضوں کے مطابق 8 ذوالحجہ کی رات کو منیٰ کے بجائے براہِ راست میدانِ عرفات منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے عازمین کو یقین دلایا کہ حکومتِ پاکستان بغیر کسی تفریق کے تمام پاکستانی ضیوف الرحمن کو ان کے عقائد کے مطابق آرام دہ اور شرعی اصولوں کے مطابق حج کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔








