اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی ) میں بدھ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جمعة الوداع، شب قدر، طاق راتوں، یوم القدس، عیدالفطر کی نماز کیلئے ایس او پیز، غیر ملکی پروازیں کھولنے، پی پی ایز اور طبی آلات کی موجودہ …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس جمعة الوداع، شب قدر،عیدالفطر کی نماز کیلئے ایس او پیز، غیر ملکی پروازیں کھولنے، پی پی ایز اور طبی آلات کی موجودہ تعداد اور ترسیل کے امور پر غور کیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی ) میں بدھ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جمعة الوداع، شب قدر، طاق راتوں، یوم القدس، عیدالفطر کی نماز کیلئے ایس او پیز، غیر ملکی پروازیں کھولنے، پی پی ایز اور طبی آلات کی موجودہ تعداد اور ترسیل کے امور پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ نے فورم کو آگاہ کیا کہ یوم علی پر مختلف اضلاع میں کی جانے والی بعض خلاف ورزیوں کے بعد مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے حکومت کی جانب سے پابندیوں اور ایس پی پیز پر عمل نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے حالانکہ یوم علی سے قبل تمام صوبوں نے این سی او سی کے فورم پر اتفاق کیا تھا کہ ملک بھر میں کہیں بھی یوم علی کے موقع پر جلوس اور مجالس نہیں ہوں گی لیکن اس کے باوجود ایسا ہوا اور وی آئی پی شخصیات نے جلوسوں میں شرکت کی حالانکہ جلوس اور ہجوم سے کورونا وائرس بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایس او پیز اور گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیلئے کسی صورت طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کچھ عناصر امن و استحکام کو خراب کرنے کیلئے اس صورتحال سے فیصلہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلائو کیلئے مذہبی ایس پی پیز پر عمل کریں اسی سے کورونا وائرس کو روکا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے عید کی نماز کے موقع پر اجتماعی اجتماعات کے انعقاد اور یوم القدس سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔ سیکرٹری ایوی ایشن حسن ناصر جامی نے بتایا کہ 21 مارچ سے فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے سول ایوی ایشن ہر ہفتے 2 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے زیر اہتمام خصوصی پروازیں آج ملک پہنچیں گی جبکہ اندرون ملک پروازیں اور ہوائی اڈے ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک آپریشن شروع کرنے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا، اس کی مدد سے معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی کیونکہ فلائنگ کلب کا بھی نقصان ہو رہا ہے ۔








