یوروبانڈز کے کامیاب اجراء سے کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسوں، عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کااے ڈی بی کے زیراہتمام تقریب سے خطاب

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ یوروبانڈزکے کامیاب اجراء سے کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسوں، عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیداراقتصادی استحکام کے سفرکاایک اہم حصہ ہے،معاشی استحکام کے سفرمیں پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد،حمایت اورمعاونت پرشکرگزارہے

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ یوروبانڈزکے کامیاب اجراء سے کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسوں، عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیداراقتصادی استحکام کے سفرکاایک اہم حصہ ہے،معاشی استحکام کے سفرمیں پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد،حمایت اورمعاونت پرشکرگزارہے۔

جمعرات کویہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام پاکستان میں مالی پائیداریت کیلئے ٹیکسیشن کے موضوع پراعلیٰ سطح کے ڈائیلاگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں دواقساط پرمشتمل 3ارب ڈالرمالیت کے یوروبانڈزجاری کردئیے ہیں جوملکی تاریخ میں ایک ہی ٹرانزیکشن کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر فنڈز اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے،یہ کریڈٹ ریٹنگ کی تین بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد عالمی مالیاتی اداروں اورسرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی معیشت اورپائیدارمعاشی اقدامات پراعتمادکامظہرہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ یوروبانڈزکیلئے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریبا 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں جو جاری کیے گئے بانڈز کی مالیت سے تقریبا دوگنازیادہ ہے اس کے علاوہ ٹرانزیکش میں دنیا کے مختلف خطوں،ایشیاء،مشرق وسطیٰ، یورپ،امریکاسے تعلق رکھنے والے متنوع ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، جو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان پر سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی اہم علامت ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ اندرونی مالیات کے شعبہ میں اصلاحات کاجوعمل شروع کیاگیاتھااسی طرح بیرونی مالیات میں بھی اقدامات کئے گئے ہیں اور تین سالہ تجدید شدہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلا بانڈ جاری کیاگیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بیرونی فنانسنگ تک وسعت دینے کا مقصد قرض لینے کی شرائط بہتر بنانا، قرضوں کی مدت بڑھانا، مالی وسائل کے ذرائع متنوع بنانا، رول اوور اورری فنانسنگ کے خطرات کم کرنا اور ملکی خودمختار قرضوں کے مجموعی پروفائل کو بہتر بنانا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ چندسال قبل حسابات جاریہ کے کھاتوں اورمالی خسارہ کاحجم ملک کی مجموعی قومی پیداوارکا12.5فیصدتھا جوجون کے اختتام پرکم ہوکر2.6فیصدہوگیاہے،مالی خسارہ کاحجم 22سال کی کم ترین سطح پرہے،حسابات جاریہ کے کھاتوں میں بہتری آرہی ہے،گزشتہ تین برسوں میں پرائمری سرپلس حاصل ہوا،مالیاتی استحکام کے حصول میں ہمیں کامیابیاں ملی ہیں اورہمیں یہ سفرجاری رکھنا ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے سفرمیں ایف بی آرنے کلیدی کرداراداکیاہے،حکومت اصلاحات کے پروگرام پرعمل پیراہے،حکومتی اخراجات میں کمی لائی گئی ہے،قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کم کردئیے گئے ہیں،گزشتہ دوبرسوں میں ایف بی آر کے محصولات میں 40فیصداضافہ ہواہے،گزشتہ مالی سال میں 13ٹریلین روپے کے محصولات اکٹھے کیے گئے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ جب ہم نے اس سفرکاآغازکیاتھا جوجی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8فیصدتھی جواب بڑھ کر10.3فیصدہے، ہمیں علم ہے کہ اس شرح میں مزیداضافہ کرنا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ معیشت کوپائیداراورمستحکم بنیادوں پراستوارکرناضروری ہے،ایف بی آرمیں لوگوں،پراسیس اورٹیکنالوجی کی بنیادپراصلاحات جاری ہے جس کامقصد ٹیکس کے دائرہ کاراوربنیادمیں وسعت اورشفاف ٹیکس نظام کے قیام کویقینی بناناہے، چئیرمین ایف بی آرکی تعیناتی کے وقت انہیں یقین دلایاگیاتھا کہ وزیراعظم اوروزیرخزانہ ایف بی آرمیں افسران کی تقرریوں وتعیناتیوں میں کوئی سفارش نہیں کریں گے،ایف بی آرکے آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کیاگیاہے اورتھرڈپارٹی آڈٹ کیا جارہاہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ایف بی آرمیں اصلاحات کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کویقینی بنایاگیاہے،

ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی فوائدحاصل ہوئے ہیں اس کے نتیجہ میں سیلزٹیکس کی وصولی میں بہتری آئی،ڈیجیٹل انوائسنگ کوفروغ دیا جارہاہے، گورننس اوروسائل کے حوالہ سے پرال کوبہتربنایاگیاہے، کسٹمزمیں فیس لیس جائزہ جیسے اقدامات سے خدمات میں بہتری آئی ہے اوراس حوالہ سے ہمیں بزنس کمیونٹی سے مثبت فیڈبیک مل رہاہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیداراقتصادی استحکام کے سفرکاایک اہم حصہ ہے،وزیراعظم،کابینہ اورسیاسی قیادت ان اصلاحات کی حمایت کررہی ہے،ہم ماضی کے اتارچڑھائو کے سفرکوختم کرناچاہتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ معاشی استحکام کی سفرکی سمت درست ہے،ہمیں مزیداقدامات کاسلسلہ جاری رکھناہے،معاشی استحکام کے اس سفرمیں پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد،حمایت اورمعاونت پرشکرگزارہے۔

مزید خبریں