وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورک کے قیام کی تجویز

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورک کے قیام کی تجویز

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے رکن ممالک کی حکومتوں، سول سروس اکیڈمیوں، جامعات، تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی مراکز اور نجی شعبے کے ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

وفاقی وزیر نے ارومچی میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم ڈیجیٹل اکانومی فورم کے موقع پر ڈیجیٹل گورننس اور تربیت سے متعلق موضوعاتی فورم سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی اور تبدیلی کا اگلا مرحلہ صرف نظام کو ڈیجیٹل بنانے تک محدود نہیں بلکہ بہتر ڈیجیٹل گورننس قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کا مطلب موجودہ حکومتی کام کو آن لائن منتقل کرنا ہے جبکہ ڈیجیٹل گورننس میں حکومت کے کام کرنے کے طریقہ کار کو شہریوں کی ضروریات، ڈیٹا اور بہتر نتائج کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ کاغذی نظام کو صرف کمپیوٹر پر منتقل کر دینا حقیقی تبدیلی نہیں، ہمیں محکموں کو مرکز بنانے کے بجائے شہریوں کو مرکز میں رکھنا ہوگا، الگ الگ ڈیٹا نظاموں کو آپس میں جوڑنا ہوگا اور حکومتی فیصلوں میں ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی کسی ملک کو تبدیل نہیں کرسکتی، کامیاب ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ماہر افراد، مضبوط ادارے، مناسب مالی وسائل اور ایسا نظام ضروری ہے جو ڈیٹا اور نئی ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائے۔

پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی قومی ترقی کے پروگرام ’’اڑان پاکستان ‘‘کے ’’ای پاکستان ستون ‘‘کا اہم حصہ ہے جبکہ یہ ترجیحات سی پیک 2.0 کے گروتھ، انوویشن، گرین ڈویلپمنٹ، لائیولی ہڈ اور اوپننس کوریڈورز سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025ء کے تحت نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کی گئی ہے جس سے ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے واضح ذمہ داری اور قیادت فراہم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان کے ڈیجیٹل نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو آسان، مربوط اور قابلِ رسائی سرکاری خدمات فراہم کی جاسکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی سے آگے بڑھتے ہوئے اسے عملی طور پر استعمال کرنے اور اس کے ذریعے معاشی و سماجی فوائد حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی ٹاسک فورس حکومت، جامعات، صنعت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بارہ مختلف شعبوں میں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس ملک کی چھ بڑی جامعات میں قائم نو لیبارٹریز کے ذریعے مختلف شعبوں کے لیے 220 سے زائد اے آئی مصنوعات اور ڈیزائنز تیار کر چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2030ء تک دس لاکھ غیر آئی ٹی ماہرین کو مصنوعی ذہانت کی مہارت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو کے تحت سات اے آئی ہبز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں گریجویٹس، اساتذہ، سرکاری افسران اور صنعت سے وابستہ افراد کے لیے بیس ہزار تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجی سکلز پروگرام میں اب تک پنتالیس لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ڈیجیٹل مہارتیں صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ وزراء کو ڈیجیٹل قیادت، سرکاری افسران کو ڈیٹا کے استعمال، ریگولیٹرز کو جدید نظام کی سمجھ اور کاروباری افراد کو مہارت، رہنمائی، مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی کے لیے انسانی صلاحیت، مضبوط ادارے اور مالی وسائل تینوں ضروری ہیں۔ صرف تربیت کافی نہیں، اداروں میں نئی مہارتوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے جبکہ نئی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور منڈیوں تک رسائی ضروری ہے۔ایس سی او کے تحت تعاون کے لیے پاکستان کی جانب سے پانچ اہم اقدامات تجویز کیے گئی۔ ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اکیڈمی کا قیام ، وزراء، ریگولیٹرز، سول سرونٹس اور بلدیاتی نمائندوں کو ڈیجیٹل تبدیلی، اے آئی، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے استعمال اور شہریوں کے لیے بہتر سرکاری خدمات کی تربیت دی جائے۔ایس سی او ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ایکسچینج ڈیجیٹل شناخت، فوری ادائیگیوں، ای پروکیورمنٹ، ٹیکس، صحت، تعلیم اور کاروباری رجسٹریشن کے شعبوں میں رکن ممالک کے تجربات اور کامیاب نظاموں کا تبادلہ کیا جائے۔

ایس سی او ڈیجیٹل گورنمنٹ اور اے آئی فیلوشپ نوجوان سول سرونٹس، محققین اور ٹیکنالوجی ماہرین کے درمیان رکن ممالک میں تربیت اور تجربات کے تبادلے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ذمہ دارانہ اے آئی اور ڈیٹا گورننس فورم شہریوں کی معلومات کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال اور سرحد پار ڈیٹا کے محفوظ تبادلے کے لیے تعاون بڑھایا جائے۔ ایس سی او ڈیجیٹل شمولیت اور جدت کا پروگرام نوجوانوں، خواتین، کم سہولت یافتہ طبقات اور بڑے ٹیکنالوجی مراکز سے دور علاقوں کے اداروں کے لیے تربیت، معاونت اور نئے منصوبوں کی حمایت کی جائے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ سرحد پار ڈیٹا تعاون کا آغاز تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں عملی منصوبوں سے کیا جائے جس سے کاروباری معاملات میں وقت اور اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد بڑھنے کے ساتھ اس تعاون کو زراعت، موسمیاتی تبدیلی، صحت، تحقیق اور صنعت کے شعبوں تک بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ ایس سی او کے منصوبوں کے لیے واضح اور قابل پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں جن میں تربیت حاصل کرنے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد، آپس میں منسلک کیے گئے ڈیجیٹل نظام، مکمل ہونے والی فیلوشپس، شروع کیے گئے مشترکہ منصوبے اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھانے والے شہری شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تعاون کو صرف اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے عملی اور قابل پیمائش نتائج سامنے آنے چاہئیں۔پاکستان کو چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک قدرتی پل قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت سڑکوں اور ریل کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل رابطوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سڑکیں اور ریلویز اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں، اسی طرح قابل اعتماد ڈیجیٹل راستے علم، خدمات، مالی وسائل اور مواقع کو ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ارومچی جو صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور تجارتی راستوں کا مرکز رہا ہے، ایک نئی ڈیجیٹل شاہراہِ ریشم کی تعمیر کے لیے موزوں مقام ہے۔

اس نئی شاہراہ کی بنیاد صرف فائبر آپٹک کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز پر نہیں بلکہ مہارت، مشترکہ اصول، اعتماد اور مضبوط اداروں پر بھی ہونی چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہمیں مستقبل کے لیے نئے ذرائع فراہم کرے گی، لیکن انسانی صلاحیت، عوامی اعتماد اور اجتماعی دانش اس مستقبل کا فیصلہ کرے گی جو ہم بنائیں گے۔ آئیے ایس سی او کو صرف ٹیکنالوجی سے جڑے ممالک کی تنظیم نہیں بلکہ علم سے مضبوط اور باہمی اعتماد سے متحد برادری بنائیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین اور تمام ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ مل کر اس مشترکہ وژن کو عملی تعاون، جامع ترقی اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔