وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت زراعت اور موسمیاتی/سیلابی ایمرجنسیز سے متعلق کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس، کسانوں کو قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، احسن اقبال

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):زراعت اور موسمیاتی/سیلابی ایمرجنسیز سے متعلق کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا، یہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ کسانوں کو قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):زراعت اور موسمیاتی/سیلابی ایمرجنسیز سے متعلق کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا، یہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ کسانوں کو قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر متاثرہ کسانوں کی بھرپور مدد کریں تاکہ وہ آنے والے ربیع سیزن کے لیے تیار ہو سکیں۔انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ آئندہ پندرہ دنوں کے اندر کسانوں کو کینولا کے بیج فراہم کیے جائیں تاکہ سیلاب کے بعد زمین میں موجود نمی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے نارووال میں 5,000 ایکڑ پر کینولا بیج کا پائلٹ منصوبہ کارپوریٹ اسپانسرشپ کے تحت شروع کر دیا ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ فوری اقدام کا لمحہ ہےہمیں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی فصلوں سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش فصلوں، خصوصاً کینولا، پر توجہ دی جائے، جو نہ صرف کسانوں کو بہتر منافع دیتی ہے بلکہ مارکیٹ میں اس کی مانگ بھی زیادہ ہے۔انہوں نے مالیاتی اداروں کے ذریعے کسانوں کے لیے بلاسود قرضہ سکیموں کے توسیع کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو بتدریج نجی انشورنس میکانزم کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مستقل اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے تین خصوصی ٹاسک فورسز قائم کی جائیں جو 15 دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کریں۔ ان رپورٹس میں درج ذیل امور شامل ہوں گے۔زرعی ایمرجنسی ریلیف اور بیجوں کی فراہمی،موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور لچک پیدا کرنے کی حکمت عملی،بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی مزاحم بنانے کے اقدامات۔یہ رپورٹس وزیراعظم کو حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک وقتی مسئلہ نہیں رہا، سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی جھٹکے ہمارے ماحول کی مستقل حقیقت بن چکے ہیں، اس لیے ہمیں ایک طویل المدتی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ غذائی تحفظ، لچک اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ممبر انفراسٹرکچر وقاص انور نے کمیٹی کے مقاصد پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کمیٹی صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک جامع زرعی معاونتی پیکیج تیار کرے گی تاکہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی ایک وسط المدتی منصوبہ بھی تشکیل دے گی جس کا مقصد کسانوں کو مناسب منافع کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی کے زرعی، مویشی، زرعی صنعتوں اور برآمدات پر اثرات کا جائزہ لینا، اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر لچکدار و پائیدار حکمت عملیاں تیار کرنا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و ورکس میاں ریاض حسین، صوبائی وزرائے زراعت و خزانہ، منصوبہ بندی کمیشن، وزارت موسمیاتی تبدیلی، واٹر مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔