اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق ڈاکٹرشیر یں مزاری نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقو ق نے ''جبری گمشدیوں '' کو فو جداری جر م قرار دینے کے سلسلہ میں پاکستان کے ضابط فوجداری میں تر میم کیلئے بل ( قانون) کا مسودہ بنا لیا ہے۔ اس قانون کا مسودہ تمام شر اکت داروں کی مشاورت سے بنایا گیا ہے جو …
وفاقی وزیر ڈاکٹرشیر یں مزاری کا سند ھ مد رستہ الا سلام یونیورسٹی کے طلبا ء سے خطا ب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق ڈاکٹرشیر یں مزاری نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقو ق نے ”جبری گمشدیوں ” کو فو جداری جر م قرار دینے کے سلسلہ میں پاکستان کے ضابط فوجداری میں تر میم کیلئے بل ( قانون) کا مسودہ بنا لیا ہے۔ اس قانون کا مسودہ تمام شر اکت داروں کی مشاورت سے بنایا گیا ہے جو وزارت قانون کو بھیج دیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آبادمیںسند ھ مد رستہ الا سلام یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وائس چانسلر سندھ مدرسة الاسلام ڈاکٹر محمدعلی اور یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام وسائل برائے کار لارہے ہیں اورخصوصاً خواتین ،بچوں اور معا شرہ کے پسے ہوئے طبقات کے حقو ق کا تحفظ کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نے داخلہ، قانون اور انصاف اور انسانی حقوق کے وزراء پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے جو کہ رحم کی اپیلوں اور سزاؤں کی معافی میں اپنائے جانے والے طر یقہ کار کی تاخیر کے معاملے کا جائزہ لے گی۔ اس ضمن میں ہم نے اصلا حات تیار کرلی ہیں اور رحم کی اپیلوں پر کارروائی کے دورانیہ میں کمی کے لیے تجا ویز کا بینہ کے غور وخو ض کے لیے بھجوا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور بین الاقوامی وعدوں کے مطابق ہر شہری کے ان حقو ق کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کر رہے ہیں جن کی فراہمی کی آئین میں ضما نت دی گئی ہے۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کابھی اظہار کیا ہے۔اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ آگے آئے اور بھارتی مقبو ضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقو ق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ دنیا بھارتی فورسز کی کشمیر یوں کے انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں پر کیوں خامو ش ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فو رسز کی کشمیری خواتین،بچوں اور انسانیت کیخلاف جرائم کو عالمی سطح پر اْجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ حکومتیں مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی فور سز کی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجا گر کرنے میں ناکام رہیں جبکہ ہمیں مقبو ضہ کشمیر میں خواتین سے بد سلو کی اور زیادتی کے مسئلہ پر بھر پور توجہ دینے کی ضر ورت ہے کیونکہ بھارتی فورسز کشمیر ی خواتین سے زیادتی کو ایک ہتھیار اور جنگی حربہ کے طو ر پر استعمال کر رہی ہیں۔انہوں نے طلبا ء پر زور دیا کہ وہ نو جوان خواتین اور بچوں کے انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے آگاہی پیدا کرنے کا مو ثر ذریعہ بن جائیں جبکہ وزارت انسانی حقو ق نے اس ضمن میں پہلے ہی آگاہی مہم شر وع کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر اساں کئے جانے کی روک تھام کے لیے ہمیں معا شر ہ میں سو چ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کبھی بھی امتیازی سلوک نہیں کرتی بلکہ امتیازمعا شرہ اور خاندان کی کی طرف سے کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے خواجہ سر اؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سمیت مختلف شعبوں میں قانون سازی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت انسان حقو ق میں ہیلپ لائین 1099قائم کی گئی ہے اور وکلاء کا گر وپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متا ثر ین کو مفت قانونی امداد فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین پر عمل کے علاوہ ہم نئی قانون سا زی بھی کر رہے ہیں اور خواتین کے حقو ق کے تحفظ اور فر وغ اور بہتری کیلئے ناصرف قانون سازی کی جارہی ہے بلکہ موثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔








