اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے تحفظ ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل ریئر ایڈمرل شہزاد اقبال سے ملاقات کی جس میں سمندری آلودگی کے تدارک، بحری ماحول کے تحفظ اور ساحلی علاقوں کی مضبوطی کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر گفتگو ہوئی۔بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تحفظ …
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی سے ملاقات، سمندری ماحول کے تحفظ میں تعاون پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے تحفظ ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل ریئر ایڈمرل شہزاد اقبال سے ملاقات کی جس میں سمندری آلودگی کے تدارک، بحری ماحول کے تحفظ اور ساحلی علاقوں کی مضبوطی کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر گفتگو ہوئی۔بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تحفظ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ریئر ایڈمرل شہزاد اقبال نے وفاقی وزیر کو پی ایم ایس اے کے جاری اقدامات پر بریفنگ دی جن میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم جیسے اہم منصوبے شامل ہیں جو بحری نگرانی اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام کو بہتر بنانے میں معاون ہیں۔
انہوں نے پی ایم ایس اے کے بنیادی فرائض پر بھی روشنی ڈالی جن میں غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، بین الوزارتی رابطہ کاری، بحری سرحدوں کی نگرانی اور پاکستان کی ثانوی بحری فورس کے طور پر خدمات شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے وفاقی وزیر کو 9 تا 11 دسمبر مجوزہ مشق باراکوڈا میں شرکت کی دعوت دی، جو تیل کے رسائو سے نمٹنے، سمندری آلودگی کے انتظام اور سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو کی قومی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے نہایت اہم تصور کی جاتی ہے۔
ملاقات میں سمندر میں کچرے کی ڈمپنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور اس کے سمندری حیات، ماہی گیری اور پاکستان کے برآمدی شعبے پر سنگین اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔اس موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کے سمندروں کے تحفظ، ماحولیاتی سکیورٹی کے استحکام اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط سمندری نظم و نسق کے فروغ کے لیے پی ایم ایس اے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی بحری حدود کے تحفظ میں پی ایم ایس اے کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اداروں کے درمیان مربوط کوششیں ہی سمندری وسائل کے طویل مدتی تحفظ اور پائیداری کو یقینی بنا سکتی ہیں۔








